ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

🔥 سانحہ پمز؛ وزیراعظم کا ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سمیت 8 افسران کی فوری معطلی اور فوجداری کارروائی کا حکم، بہادر نرس کے لیے ’ستارہ خدمت‘ کا اعلان

🔥 سانحہ پمز؛ وزیراعظم کا ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سمیت 8 افسران کی فوری معطلی اور فوجداری کارروائی کا حکم، بہادر نرس کے لیے ’ستارہ خدمت‘ کا اعلان
Spread the love

اسلام آباد/قومی ڈیسک: اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے دلخراش آتشزدگی کے واقعے پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جہاں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی۔ وزیراعظم نے غفلت کے مرتکب ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سمیت 8 ذمہ داران کو فوری طور پر معطل کرنے اور ان کے خلاف محکمہ جاتی کے ساتھ ساتھ فوجداری (کریمینل کوڈ) قوانین کے تحت سخت ترین کارروائی کی منظوری دے دی ہے۔

📌 معطل ہونے والے اعلیٰ افسران اور ذمے داران

وزیراعظم کی جانب سے جن افراد کو عہدوں سے ہٹا کر فوری کارروائی کی منظوری دی گئی ہے، ان میں درج ذیل افسران شامل ہیں:

  • پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر (ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پمز)
  • ڈاکٹر مطاہر شاہ اور چوہدری ڈاکٹر اویس علی شاہ (جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائریکٹرز)
  • پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض (سربراہ نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ)
  • ڈاکٹر نغم (سینئر رجسٹرار) اور ڈاکٹر نوشیلہ امجد
  • محمد عثمان (اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی پمز)
  • ڈاکٹر عبدالرحمان (ڈی جی سی ڈی اے ایمرجنسی سروس)
  • اس کے علاوہ سیکیورٹی پر مامور نجی کمپنی اور اس کے عہدیداران کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کینکاح دی گئی ہے۔
  • نئے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی تعیناتی: سی ای او این آئی ایچ ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا ایکٹنگ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ برطرف کیے گئے عہدوں پر نئے لوگوں کی فوری تعیناتی کا حکم دے دیا گیا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کو فوری طور پر وزارتِ قومی صحت کی ویب سائٹ پر پبلک کر دیا گیا ہے۔

🎖️ بہادر نرس کے لیے ’ستارہ خدمت‘ اور سخت اقدامات

  • جان بچانے والی نرس کا اعزاز: وزیراعظم نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے آگ کے شعلوں کے درمیان ایک معصوم بچے کی جان بچانے والی نرس کے لیے ’ستارہ خدمت‘ دینے کی منظوری دی ہے۔
  • او ایس ڈی تقرری: واقعے کے وقت وارڈ میں موجود ایک اور نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی (OSD) بنا کر مزید تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔
  • وزیراعظم کا سخت موقف: وزیراعظم شہباز شریف نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ معصوم بچوں کی موت ایک ایسا اندوہناک سانحہ ہے جس پر پوری قوم غمگین ہے، اور ذمہ داروں کو ایسی مثالی سزا دی جائے گی تاکہ آئندہ کوئی ماں اپنے لخت جگر سے محروم نہ ہو۔

🔍 انکوائری رپورٹ کے ہولناک انکشافات

اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ:

  • ایس او پیز کا فقدان: پمز اسپتال میں آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی تفصیلی ایس او پیز یا ٹریننگ موجود نہیں تھی۔ اسپتال کے 13 ایس او پیز میں سے صرف دو ذیلی سیکشنز میں اس کا ذکر پایا گیا۔
  • محض 2 منٹ میں پھیلاؤ: واقعے کے وقت سپروائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا جبکہ آگ لگنے اور پورا وارڈ جلنے میں صرف دو منٹ کا مختصر وقت لگا۔ آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی کو کال کی گئی اور پہلا رسپانس 15 منٹ بعد پہنچا۔
  • پچھلی غفلت اور ڈبلیو ایچ او قوانین کی خلاف ورزی: واقعے سے محض ایک ماہ قبل جولائی میں بھی پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا لیکن اس کے باوجود حفاظتی اقدامات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ وارڈ میں کوئی فائر الارم یا اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا اور ڈبلیو ایچ او (WHO) کے تمام اصولوں کی صریح خلاف ورزی پائی گئی۔

👥 اجلاس میں شرکت

اعلیٰ سطح کے اس اہم اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، مصطفی کمال، انکوائری کمیٹی کے سربراہ شاہد خان، ارکان بیرسٹر نبیل اعوان، میجر جنرل (ر) خورشید اتر اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *