ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

🔥 ’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں‘؛ سانحہ گل پلازہ کے جوڈیشل کمیشن کی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ پبلک، اداروں کی مجرمانہ غفلت بے نقاب

🔥 ’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں‘؛ سانحہ گل پلازہ کے جوڈیشل کمیشن کی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ پبلک، اداروں کی مجرمانہ غفلت بے نقاب
Spread the love

کراچی/قومی ڈیسک: سندھ حکومت نے کراچی کے معروف کاروباری مرکز گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک سانحے کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کی تفصیلی رپورٹ پبلک کر دی ہے۔ 78 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قیمتی جانیں صرف آگ لگنے سے نہیں بلکہ ریسکیو آپریشن میں تاخیر، اندھیرے، بند راستوں اور متعلقہ اداروں کی شدید نااہلی کے باعث ضائع ہوئیں۔

📌 سانحہ گل پلازہ کا پس منظر اور جوڈیشل کمیشن

  • حادثے کی تاریخ: رپورٹ کے مطابق یہ اندوہناک واقعہ 17 جنوری 2026 کو پیش آیا تھا جس میں 72 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں تھیں۔
  • کمیشن کا قیام: سندھ حکومت نے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے 4 فروری 2026 کو ہائیکورٹ کے جج جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تھا، جس نے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے اپنی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ مکمل کر لی ہے۔
  • شعر کا حوالہ: جسٹس آغا فیصل نے رپورٹ کے دیباچے میں مشہور شاعر مصطفی زیدی کا یہ دل دہلا دینے والا شعر درج کیا ہے:”میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں، تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے“

🔍 کمیشن رپورٹ کے اہم انکشافات اور ذمہ دار ادارے

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ذمہ داری کسی ایک ادارے پر ڈالنے کے بجائے مجموعی نظام اور اداروں کی ناکامی کو جانی نقصان کی بڑی وجہ قرار دیا ہے:

  • عمارت کی غیر قانونی ساخت اور آتش گیر مادہ: گل پلازہ کے ریگولیرائزڈ پلان میں 1102 دکانیں تھیں جبکہ حقیقت میں وہاں 1153 دکانیں موجود تھیں، جن میں بڑی مقدار میں آتش گیر تجارتی سامان بھرا ہوا تھا۔
  • سول ڈیفنس اور آڈٹ کی ناکامی: رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2024 اور 2025 کی سول ڈیفنس رپورٹس میں پہلے ہی فائر سیفٹی کے آلات کی عدم موجودگی اور خارجی راستوں کے نقائص کی نشاندہی کر دی گئی تھی، مگر معلوم خطرات کے باوجود کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
  • فائر بریگیڈ کی تاخیر: آگ کی اطلاع فائر بریگیڈ کو دینے میں غیر دانشمندانہ تاخیر کی گئی، جبکہ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو موقع پر پہنچنے میں بھی دیر لگی اور تقریباً 35 سے 40 منٹ بعد مؤثر فائر فائٹنگ شروع ہو سکی۔ پانی کی کمی اور ری فلنگ کے مسائل نے ریسکیو آپریشن کو مزید متاثر کیا۔
  • بجلی کی بندش اور اندھیرا: بروقت بجلی منقطع کرنے کی وجہ سے عمارت میں اندحیر ا چھا گیا جس سے بالائی منزلوں سے لوگوں کے نکلنے کے امکانات ختم ہو گئے۔ عمارت میں اسپیکر سسٹم موجود ہونے کے باوجود اسے بروقت استعمال نہیں کیا گیا۔
  • ڈپٹی کمشنر اور ایس بی سی اے کی غفلت: ڈپٹی کمشنر جنوبی کا دفتر آڈٹ اور نگرانی کے نظام کو فعال کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا، جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) بھی فائر سیفٹی اور نامکمل ریکارڈ کی مؤثر نگرانی کرنے میں ذمہ دار پائی گئی۔
  • ریسکیو 1122 کی کوتاہی: رپورٹ کے مطابق ریسکیو 1122 کی ٹیمیں جب موقع پر پہنچیں تب بھی بچاؤ کا مؤثر موقع باقی تھا (سوا 11 سے ساڑھے 11 بجے تک ریمپ سے رسائی ممکن تھی)، لیکن دستیاب وقت کو بڑے پیمانے کے ریسکیو آپریشن میں تبدیل نہیں کیا گیا۔
  • برقی معائنہ نہ ہونا: الیکٹرک انسپکٹر کے بیان کے مطابق گل پلازہ کا کوئی باقاعدہ برقی معائنہ بھی نہیں کیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *