ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

کھیل

🏏 ٹرانس جینڈر کرکٹر انایا بنگر کو خواتین کرکٹ میں واپسی کا راستہ دینے پر جنوبی افریقی کرکٹر میریزان کیپ برہم، فیصلہ مضحکہ خیز قرار

🏏 ٹرانس جینڈر کرکٹر انایا بنگر کو خواتین کرکٹ میں واپسی کا راستہ دینے پر جنوبی افریقی کرکٹر میریزان کیپ برہم، فیصلہ مضحکہ خیز قرار
Spread the love

جوہیبرگ/اسپورٹس ڈیسک: جنوبی افریقا کی نامور آل راؤنڈر میریزان کیپ نے ٹرانس جینڈر کرکٹر انایا بنگر کو خواتین کرکٹ میں واپسی کا راستہ فراہم کرنے کے معاملے پر کرکٹ آسٹریلیا کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے انتہائی مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔

📌 تنازع کی تفصیلات اور کرکٹ آسٹریلیا کی پالیسی

  • انایا بنگر کون ہیں؟ آسٹریلوی میڈیا کے مطابق سابق بھارتی کرکٹر اور کوچ سنجے بنگر کی بیٹی انایا بنگر نے رواں برس مارچ میں جنس کی تصدیقی سرجری (جنسی تبدیلی کی سرجری) کرائی تھی، جس کے بعد کرکٹ آسٹریلیا نے اپنی ٹرانس جینڈر پالیسی کے تحت انہیں خواتین کرکٹ میں کھیلنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
  • کھیلنے کی شرائط اور وقت: اس فیصلے کے تحت انایا مارچ 2027 تک آسٹریلیا کی کسی بھی ریاست یا علاقے میں کمیونٹی کرکٹ کھیل سکیں گی۔ اس کے بعد مقررہ پالیسی کی شرائط، جن میں ٹیسٹوسٹیرون کی مخصوص حد بھی شامل ہے، پوری کرنے کی صورت میں وہ ایلیٹ لیول کی خواتین کرکٹ کے لیے بھی اہل ہو سکتی ہیں۔
  • ٹیسٹوسٹیرون کی شرط: کرکٹ آسٹریلیا کے قواعد کے مطابق خواتین کی ایلیٹ کیٹیگری میں حصہ لینے کے لیے کھلاڑی کا سیرم ٹیسٹوسٹیرون کم از کم 12 ماہ تک مسلسل 10 نینومول فی لیٹر سے کم ہونا لازمی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ انایا مارچ 2027 میں یہ شرط پوری کر لیں گی، تاہم اس کے بعد بھی خون کے باقاعدہ ٹیسٹ اور دیگر پالیسی شرائط کی تکمیل ضروری ہوگی۔

🗣️ میریزان کیپ کا ردعمل اور انٹرنیشنل قوانین

  • شدید تنقید: جنوبی افریقن آل راؤنڈر میریزان کیپ نے اس خبر کو اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے کرکٹ آسٹریلیا کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور واضح کیا کہ اس قسم کے فیصلوں کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
  • آئی سی سی کے ضوابط: واضح رہے کہ جہاں ایک طرف کرکٹ آسٹریلیا کی ملکی پالیسی انایا کو خواتین کی ایلیٹ کرکٹ میں واپسی کا راستہ دیتی ہے، وہیں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کے موجودہ قوانین کے تحت مردانہ بلوغت (Male Puberty) سے گزرنے والی ٹرانس جینڈر خواتین کو بین الاقوامی سطح پر خواتین کرکٹ میں شرکت کی اجازت بالکل حاصل نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *