Skip to main content

G24 News Online

بلاگ

🏛️ نئے صوبوں کا قیام؛ کیا ایڈمنسٹریشن میں بہتری کی گارنٹی ہے؟ یا اصل حل مقامی حکومتوں کی فعالیت ہے؟

🏛️ نئے صوبوں کا قیام؛ کیا ایڈمنسٹریشن میں بہتری کی گارنٹی ہے؟ یا اصل حل مقامی حکومتوں کی فعالیت ہے؟
Spread the love

اسلام آباد/تجزیاتی ڈیسک: پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ملک کے قیام کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی جو آج تک تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ کبھی ’ون یونٹ‘، کبھی اس کی واپسی، کبھی پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کرنے اور کبھی سندھ کی تقسیم کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ حال ہی میں جب کچھ سیاسی اور غیر سیاسی صاحبِ منصب شخصیات نے نظام کو بدلنے کے حوالے سے اس پر بات کی، تو یہ موضوع ایک بار پھر قومی بحث کا حصہ بن گیا۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا محض صوبے تقسیم کر دینے سے انتظامی امور اور گورننس بہتر ہونے کی کوئی ضمانت مل سکتی ہے؟

📌 بین الاقوامی مثالیں اور زمینی حقائق

  • بھارت کی مثال کا تقابلی جائزہ: اس فیصلے کی حمایت میں اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بھارت میں ریاستوں کی تعداد بڑھ کر 28 ہو چکی ہے (جیسے ہریانہ، اتراکھنڈ اور تلنگانہ کا قیام)۔ لیکن کیا دونوں ممالک میں تقسیم کی بنیاد ایک جیسی ہے؟ اگر آبادی کی بنیاد دیکھیں تو بھارت کی ریاست ’اتر پردیش‘ (یو پی) کی آبادی اکیلے پاکستان کے برابر ہے، لیکن اسے تقسیم نہیں کیا گیا؛ اسی طرح 10 کروڑ سے زائد آبادی والا ’مغربی بنگال‘ بھی ایک ہی صوبہ ہے۔ بھارت میں یہ تقسیم زبان، ثقافتی شناخت اور دیگر محرکات پر مبنی تھی۔
  • ترکی اور جرمنی کا ماڈل: ترکی میں ساڑھے 8 کروڑ آبادی کے لیے 81 صوبے ہیں (جن کی آخری تقسیم 1999 میں ہوئی تھی، جو کہ اضلاع کی سطح کی تقسیم جیسی ہے)، جبکہ جرمنی کی 16 وفاقی ریاستیں مقامی ترقی، تعلیم اور صحت کے لیے خودمختار ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ان ممالک کی خوشحالی کی وجہ صرف صوبوں کی کثرت ہے یا اس کے پیچھے دیگر معاشی اور انتظامی عوامل کارفرما ہیں؟

⚠️ صوبوں کی تقسیم: حل یا محض ’پیناڈول‘ کا علاج؟

  • سنگین چیلنجز اور سوالات: اگر صوبے تقسیم کیے جاتے ہیں تو اس سے جڑے کئی پیچیدہ سوالات جنم لیتے ہیں؛ مثلاً شناخت کا تعین کیسے ہوگا؟ نئے صوبوں کے نام کون رکھے گا؟ پانی کی تقسیم کا فارمولا کیا ہوگا؟ موجودہ قرضے اور وسائل کیسے بٹیں گے؟ ریونیو سسٹم کیسے چلے گا اور نئی سرحدیں کیسے طے ہوں گی؟
  • کینسر کا علاج پیناڈول سے: ہم دراصل اپنے گہرے انتظامی مسائل کا حل سطحی فیصلوں (یا محض اضافی عہدوں کے حصول) سے تلاش کر رہے ہیں۔ اگر بنیاد یہ ہے کہ لوگوں کو ہر چھوٹے کام کے لیے لاہور یا کراچی جانا پڑتا ہے اس لیے نیا صوبہ بنا دیا جائے، تو کل کو صوبے اتنے چھوٹے ہو جائیں گے کہ ہر محلہ صوبہ اور ہر گلی میں سیکرٹری بنانا پڑے گا۔

🛠️ اصل حل: مضبوط بلدیاتی نظام اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی

  • شہریوں کو بڑے شہروں کا رخ کیوں کرنا پڑتا ہے؟ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ تونسہ کے شہری کو لاہور، گھوٹکی والے کو کراچی، اور سوات کے شہری کو پشاور کیوں جانا پڑتا ہے؟ کیا حکومت یا عوامی نمائندے ان علاقوں میں خود نہیں جا سکتے؟ کیا ہر شہر میں بلدیہ اتنی مضبوط نہیں کی جا سکتی کہ لوگوں کو دارالحکومتوں کا رخ نہ کرنا پڑے؟
  • مہاراشٹر اور بیجنگ کی مثال: مہاراشٹر کی آبادی 13 کروڑ اور رقبہ 3 لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے، جو بھارت کی جی ڈی پی میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اسی طرح فیصل آباد اور گوجرانوالہ کو بھی عالمی معیار کے مطابق چلایا جا سکتا ہے۔
  • اصلی اختیارات (بلدیات کی فعالیت): حکومت کو لوگوں کی دہلیز پر پہنچانے کا مقصد ہر گلی میں وزیراعلیٰ بنانا نہیں بلکہ ہر گلی اور محلے میں ایک بااختیار کونسلر، یونین کونسل، تحصیل اور ضلع کی سطح پر مؤثر نظام قائم کرنا ہے۔ جس دن ہمارے بلدیاتی ادارے فعال ہو گئے، انتظامیہ خود بخود بہتر ہو جائے گی اور بڑے شہروں پر دباؤ بھی کم ہو جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *