گجرات/کرائم ڈیسک: گجرات میں 4 سالہ معصوم بچی نور فاطمہ کے ساتھ جنسی زیادتی اور اس کے بعد قتل کے لرزہ خیز واقعے کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ کمسن بچی کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
📌 میڈیکل رپورٹ کے ہولناک انکشافات
- جنسی زیادتی کی تصدیق: میڈیکل رپورٹ کے مطابق 4 سالہ نور فاطمہ کے ساتھ زیادتی کی گئی اور کمسن بچی کے نازک اعضاء پر جنسی حملے سے مطابقت رکھنے والے گہرے زخم پائے گئے ہیں۔
- موت کی اصل وجہ: ابتدائی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بچی کی موت زیادہ خون بہہ جانے (Severe Bleeding) اور شدید خوف کے باعث واقع ہوئی۔
- لا ش کی برآمدگی اور جسمانی حالت: معصوم بچی کی لاش تقریباً دو روز بعد پانی سے برآمد ہوئی تھی، تاہم پوسٹ مارٹم کے دوران ہاتھوں یا ٹانگوں پر کسی نمایاں چوٹ یا فریکچر کے شواہد نہیں ملے۔ موت کا درست وقت تاحال متعین نہیں ہو سکا۔
🔬 فرانزک شواہد اور قانونی کارروائی
- نمونے تجزیے کے لیے ارسال: پوسٹ مارٹم کے دوران ڈی این اے، کیمیکل ایگزامینر اور ہسٹوپیتھالوجی کے تمام ضروری نمونے محفوظ کر کے فرانزک تجزیے کے لیے پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی (PFSA) کو بھجوا دیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق حتمی طبی رائے پی ایف ایس اے کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔
- ملزم کی گرفتاری اور کیس منتقلی: پولیس کے مطابق ملزم مقتولہ کا اپنا چچا زاد بھائی (کزن) ہے، جس نے مبینہ زیادتی کے بعد بچی کو قتل کر کے لاش برساتی نالے میں پھینک دی تھی۔ اس گھنائونے جرم کا مقدمہ اور مکمل کیس مزید تحقیقات کے لیے سی سی ڈی (CCD) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔




