ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

🏥 ”جو کام نہیں کر رہا، اس کو فوری نکال دیں“؛ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا پمز کا اچانک دورہ، خستہ حالی پر اسٹاف پر شدید برہمی

🏥 ”جو کام نہیں کر رہا، اس کو فوری نکال دیں“؛ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا پمز کا اچانک دورہ، خستہ حالی پر اسٹاف پر شدید برہمی
Spread the love

اسلام آباد/قومی ڈیسک: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے کارڈیک سینٹر کا اچانک دورہ کیا ہے جہاں اسپتال کے پرائیویٹ رومز اور وارڈز کی خستہ حالت دیکھ کر وہ اسٹاف پر شدید برہم ہوئے۔ وزیر صحت نے دوٹوک الفاظ میں ہدایت کی ہے کہ جو بھی عملہ فرض سے غفلت برت رہا ہے یا کام نہیں کر رہا، اسے فوری طور پر نوکری سے فارغ کر دیا جائے۔

📌 پمز کارڈیک سینٹر کا دورہ اور کیتھ لیب کا معائنہ

  • مریضوں سے دریافت: دورے کے دوران وفاقی وزیر نے پمز میں الیکٹرو فیزیالوجی کیتھ لیب اور مختلف شعبوں کا جائزہ لیا، اس دوران انہوں نے زیر علاج مریضوں سے ان کو ملنے والی طبی سہولیات اور درپیش مشکلات کے بارے میں دریافت کیا۔
  • خستہ حال دیواروں پر سخت برہمی: کارڈیک پرائیویٹ رومز کی حالت زار دیکھ کر مصطفیٰ کمال کا پارہ ہائی ہو گیا۔ انہوں نے برہم ہوتے ہوئے کہا کہ دیواروں کی حالت خراب ہے اور آپ صرف اوپر پینٹ کر رہے ہیں، کسی دن یہ دیوار گر گئی تو پھر ہم سب کو یہاں آنا پڑے گا۔

⚡ “کام نہ کرنے والوں کو روزانہ کی بنیاد پر نکال دیں”

  • انتظامیہ کو سخت ہدایات: ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر سلمان کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر صحت نے واضح کیا کہ آپ کو اسپتال کی حالت کو سمجھنے کے لیے 6 ماہ نہیں ملیں گے، بلکہ فوری طور پر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگر اسپتال کی روزانہ کی بنیاد پر مینٹیننس نہیں دیکھی جائے گی تو پھر کیا دیکھا جائے گا؟
  • سفارش اور دباؤ سے بالاتر ہو کر ایکشن: مصطفیٰ کمال نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ “کوئی کسی کا بھی آدمی کیوں نہ ہو، اگر وہ کام نہیں کر رہا تو اسے فارغ کر دیں، باہر سے آکر کوئی یہاں کام نہیں کرے گا، انتظامیہ ایکشن لے میں خود ایسے لوگوں کو فارغ کروں گا۔” انہوں نے ہدایت کی کہ اگر کوئی کام نہیں کر رہا تو روزانہ کی بنیاد پر 10 لوگوں کو نوکری سے نکال دیں۔

⚖️ انتظامی طاقت کا ارتکاز اور اختیارات کی تقسیم

  • پاور سینٹرلائزیشن کی شکایت: پمز کی انتظامیہ نے وفاقی وزیر صحت سے شکایت کی کہ اسپتال میں تمام اختیارات مرکوز (Centralized) ہیں اور انتظامی طاقت صرف ایک ہی شخص کے پاس ہے۔
  • وزیر صحت کا فوری ردعمل: اس شکایت پر مصطفیٰ کمال نے جواب دیا کہ آپ ایک صفحے پر تحریری طور پر تجویز دیں کہ اختیارات کا بہتر ماڈل کیا ہونا چاہیے، ہم طاقت (اختيارات) کو تقسیم کر دیتے ہیں تاکہ امور بہتر طریقے سے چل سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *