ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

سیاست

🏛️ میئر کا عہدہ ختم کرنا بیوروکریسی کو مضبوط کرنے کے مترادف ہوگا: خواجہ سعد رفیق کا سخت ردعمل

🏛️ میئر کا عہدہ ختم کرنا بیوروکریسی کو مضبوط کرنے کے مترادف ہوگا: خواجہ سعد رفیق کا سخت ردعمل
Spread the love

لاہور/سیاسی ڈیسک: مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اسلام آباد اور لاہور سمیت ملک کے بڑے شہروں سے میٹروپولیٹن یا میونسپل کارپوریشن کے میئر کا عہدہ ختم کرنا دراصل مقامی حکومت کے نظام کو کمزور کرنے اور بیوروکریسی کے اختیارات کو مزید مضبوط کرنے کے مترادف ہوگا۔

📌 میئر کا عہدہ ختم کرنے کی مخالفت اور براہ راست انتخابات

  • بیوروکریسی کی مضبوطی کا خدشہ: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پالیسی بیان میں خواجہ سعد رفیق نے خبردار کیا ہے کہ بلدیاتی نظام سے میئر کا منصب ہٹانے کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
  • ‘ون مین ون ووٹ’ کا اصول: انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ میئر کا انتخاب کسی بالواسطہ طریقے کے بجائے ‘ون مین ون ووٹ’ کی بنیاد پر براہ راست عوام کے ذریعے ہونا چاہیے، جبکہ ماضی کے مختلف ادوار میں بلدیاتی اداروں سے چھینے گئے آئینی اختیارات فوری طور پر واپس کیے جائیں۔

💼 مالی خود مختاری، اختیارات کا ارتکاز اور متعدد اتھارٹیز کا خاتمہ

  • آئینی تحفظ اور وسائل کی منتقلی: لیگی رہنما نے زور دیا کہ مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنے کے لیے انہیں حقیقی آئینی تحفظ اور مالی خود مختاری دی جانی چاہیے۔ صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ صوبائی سطح پر اختیارات کا ارتکاز ختم کریں اور پراونشل فنانس ایوارڈ کے ذریعے مرکز و صوبے سے حاصل شدہ وسائل کو نچلی یعنی ضلعی سطح پر منتقل کریں۔
  • متضاد اداروں پر تنقید: خواجہ سعد رفیق نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک ہی شہر میں چھ چھ اتھارٹیز ایک ہی جیسا کام کریں گی تو نظام کیسے چلے گا؟ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ میونسپل کمیٹیوں، کارپوریشنز اور کینٹونمنٹ بورڈز کے علاوہ ایک ہی نوعیت کے فرائض سرانجام دینے والے باقی تمام اداروں کا متوازی وجود آئین سے متصادم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *