راولپنڈی/ سیاسی ڈیسک: نورین نیازی نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی، جس کے بعد جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا ہے کہ عدالتوں کو ہی بانی پی ٹی آئی کو ریلیف دینا ہے اور ہماری تمام تر امیدیں عدلیہ سے وابستہ ہیں۔
📌 اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان کے اہم نکات
- بچوں سے بات نہ کرانا اور ملاقاتوں پر پابندی: علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی تاحال ان کے بچوں سے فون پر بات نہیں کرائی گئی ہے، جو کہ توہینِ عدالت ہے۔ اس کے علاوہ ان کی اور ڈاکٹر عظمیٰ کی ملاقات نہ کرانا بھی عدالتی حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔
- عدالتی احکامات کی خلاف ورزی: ان کا کہنا تھا کہ ہم عدالتی احکامات کے مطابق پرامن طریقے سے چل رہے ہیں، مگر پتا نہیں حکومت کو کس بات کا خوف ہے۔ حکومت عدالت کا حکم نہ مان کر یہ ثابت کر رہی ہے کہ وہ عدلیہ کو مانتی ہی نہیں ہے۔
- عدلیہ پر عوام کا اعتماد: لوگوں کا کہنا ہے کہ شکر ہے عدالتیں انصاف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ عوام ججوں کے فیصلوں اور ان کی باتوں پر خوش ہیں کیونکہ وہ قانون کے مطابق ہیں۔ اگر عدالتیں انصاف فراہم نہیں کریں گی تو عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا۔
🤝 عدلیہ کی حمایت اور صحافیوں پر تنقید
- انصاف دینے والے ججوں کے ساتھ کھڑے ہیں: علیمہ خان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم انصاف فراہم کرنے والے ججوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور تمام پاکستانیوں کو اپنی عدالتوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
- صحافیوں سے شکوہ: ان کا کہنا تھا کہ کچھ صحافی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد ایسے سوالات پوچھ کر توہینِ عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
- واضح رہے کہ اس سے قبل نورین نیازی اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد واپس فیکٹری ناکے پر پہنچیں، تاہم انہوں نے میڈیا کے نمائندوں اور کارکنوں کے سوالوں کے جواب نہیں دیے اور بغیر گفتگو کیے وہاں سے روانہ ہو گئیں




