اسلام آباد/ سیاسی ڈیسک: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاج معالجے کا معاملہ سیاست سے پاک ہونا چاہیے۔
📌 “ہم نے صحت کے معاملے پر کبھی سیاست نہیں کی”
وفاقی وزیر نے اپنے بیان میں ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے کبھی اپنے مخالفین کی صحت کو سیاسی ہتھیار نہیں بنایا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے سابقہ رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا:
- “تاریخ گواہ ہے کہ پی ٹی آئی نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی صحت کے معاملے پر کیسی سیاست کی تھی۔”
- انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے رویے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “سب جانتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کس طرح منہ پر ہاتھ پھیر کر کھانا بند کرنے کی باتیں کیا کرتے تھے۔”
🏥 “جیل مینوئل کے تحت علاج کی سہولیات میسر ہیں”
عطاء اللہ تارڑ نے اس بات کو مسترد کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو طبی سہولیات نہیں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا:
- ہر قیدی کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ اسے صحت کی سہولیات ملیں، اور بانی پی ٹی آئی کو پہلے بھی جیل مینوئل کے مطابق یہ سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں۔
- ان کا کہنا تھا کہ علاج معالجے کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں ہے، انہیں پہلے کی طرح تمام طبی سہولیات دستیاب رہیں گی۔
📜 سپریم کورٹ میں نظرثانی کا فیصلہ
وفاقی وزیر اطلاعات نے اعلان کیا کہ حکومت عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کرے گی۔ انہوں نے کہا:
- سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی جائے گی، بالخصوص نجی اسپتال میں منتقلی کے حوالے سے قانونی نکات اٹھائے جائیں گے۔
- انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ صحت کا معاملہ سیاست سے الگ رہنا چاہیے، تاہم قانونی فورمز پر اپنا مؤقف پیش کرنا حکومت کا حق ہے۔



