کراچی/کرائم ڈیسک: کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں پیش آنے والے ہائی پروفائل تشدد کے واقعے کی اعلیٰ سطح انکوائری رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے۔ رپورٹ میں ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ ان کے عزیز و اقارب اور موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی مقدمات درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
📌 واقعہ کا پس منظر اور وائرل ویڈیو
- تشدد کا واقعہ: گزشتہ 21 اگست کو درخشاں تھانے کی حدود ڈیفنس فیز 6 چھوٹا بخاری کمرشل ایریا کے ایک رہائشی اپارٹمنٹ میں بااثر خواتین اور پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں اپارٹمنٹ کے رہائشی بہن بھائی (علی احسن اور نورالعین) پر بہیمانہ تشدد کا واقعہ پیش آیا تھا۔
- نوٹس اور انکوائری: 28 اگست کو جب اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا کو انکوائری افسر مقرر کیا تھا۔ ڈی آئی جی ساؤتھ نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر اپنی تفصیلی انکوائری رپورٹ ایڈیشنل آئی جی کو ارسال کر دی ہے۔
🛡️ ایس ایس پی فدا جانوری کے خلاف کارروائی اور متاثرہ بہن بھائی کو ریلیف
- ایس ایس پی کورنگی ذمہ دار قرار: انکوائری رپورٹ میں ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری کی جانب سے معاملے میں سنگین انتظامی غفلت برتنے کی تصدیق کی گئی ہے اور ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
- متاثرین کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کی درخواست: رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ واقعے کے بعد متاثرہ بہن بھائی علی احسن اور نورالعین کے خلاف درخشاں تھانے میں درج کیے گئے جھوٹے مقدمے (نمبر 578/26) کو بی کلاس (B-Class) کر کے ختم کیا جائے۔
⚖️ ساس، سالی، سالے اور پولیس افسران پر مقدمات و معطلیاں
- رشتہ داروں اور اہلکاروں پر مقدمہ: انکوائری رپورٹ میں ایس ایس پی کی ساس، سالی، سالے اور موقع پر موجود ضلع کورنگی کے 4 اہلکاروں سمیت تمام ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
- پولیس افسران معطل: رپورٹ کی روشنی میں سابق ایس ایچ او درخشاں راشد علی اور ایس آئی یو درخشاں کے موبائل افسر آفتاب منگی کو بھی معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔
- متاثرین کی مدعیت میں نیا مقدمہ: رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے متاثرہ بہن بھائی کی اصل مدعیت میں واقعے کا مقدمہ درج کیا جائے۔




