
لاہور/قومی ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر و رکن قومی اسمبلی حماد اظہر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملتان سے گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتاری کے بعد انہیں لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں وہ طویل عرصے سے 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے سلسلے میں مطلوب اور اشتہاری قرار دیے گئے تھے۔
📌 گرفتاری کی تفصیلات اور پولیس کارروائی
- گرفتاری کا مقام: پولیس ذرائع کے مطابق حماد اظہر کو ملتان میں آر اے بازار کے قریب ایک قریبی دوست کے گھر سے خفیہ اطلاع پر حراست میں لیا گیا۔
- انوسٹی گیشن ونگ کے حوالے: ملتان سے منتقلی کے بعد لاہور پولیس نے حماد اظہر کو باضابطہ طور پر انوسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا ہے جہاں ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
⚖️ 9 مئی کے مقدمات اور عدالتی احکامات
- مقدمات اور الزامات: پولیس ریکارڈ کے مطابق حماد اظہر 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات، بالخصوص جی او آر گیٹ حملہ کیس سمیت 50 سے زائد سنگین مقدمات میں نامزد اور مرکزی ملزم ہیں۔ وہ واقعے کے بعد سے قانون کی گرفت سے روپوش تھے۔
- اشتہاری اور وارنٹ: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے طویل عرصے تک عدالت میں پیش نہ ہونے پر حماد اظہر کو باضابطہ طور پر اشتہاری قرار دے رکھا تھا، جبکہ عدالت کی جانب سے ان کے دائمی وارنٹِ گرفتاری بھی جاری کیے گئے تھے۔

🛡️ حفاظتی ضمانت کی کوششیں اور سیاسی پس منظر
- عدالتی رجوع: دوسری جانب، گرفتاری سے بچنے کے لیے پی ٹی آئی رہنما کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ میں حفاظتی ضمانت کے لیے درخواستیں دائر کی گئی تھیں جن پر قانونی کارروائی کا سلسلہ جاری تھا۔
- پارٹی عہدے سے استعفیٰ: یاد رہے کہ مقدمات کے اندراج اور قانونی مشکلات کے بعد حماد اظہر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، جبکہ اس سے قبل پی ٹی آئی نے انہیں پنجاب کے صدر کی اہم ذمہ داری سونپ رکھی تھی۔




