ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

سیاست

⚖️ پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج کے خلاف درخواست؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے لارجر بینچ تشکیل دے دیا، چاروں صوبوں کے آئی جیز اور چیف سیکرٹریز طلب

⚖️ پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج کے خلاف درخواست؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے لارجر بینچ تشکیل دے دیا، چاروں صوبوں کے آئی جیز اور چیف سیکرٹریز طلب
Spread the love

اسلام آباد/قومی ڈیسک: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو دیے جانے والے احتجاج اور لانگ مارچ کی کال کے خلاف دائر درخواست پر اہم کارروائی کرتے हुए لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے۔ عدالت نے معاملے کو ’آئینی بحران‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان سے عدالتی معاونت طلب کی ہے، جبکہ چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گیا ہے۔

📌 اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ تشکیل اور اہم احکامات

  • لارجر بینچ کی تشکیل: اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں بننے والے اس لارجر بینچ میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف بھی شامل ہیں۔
  • اعلیٰ حکام کی طلبی: عدالت نے کیس کی حساسیت کے پیش نظر چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز، آئی جیز، چیف کمشنر اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کے علاوہ چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے ایڈوکیٹ جنرلز کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
  • جواب طلب: عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 10 ستمبر تک جواب طلب کر لیا ہے اور اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی اس معاملے پر معاونت کے لیے بلا لیا ہے۔

⚖️ درخواست گزار کے دلائل اور ماضی کے واقعات کا ذکر

  • کاروباری برادری کے خدشات: درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایک تاجر ہیں اور اسلام آباد میں کاروبار کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے احتجاج کی کال کے بعد دارالحکومت میں امن و امان اور معاشی سرگرمیوں کے متاثر ہونے کا شدید خدشہ ہے۔
  • سرکاری مشینری کا استعمال: وکیل نے وزارت داخلہ کا 2024 کا ایک خط پیش کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس نوعیت کے احتجاج میں سرکاری وسائل اور مشینری کا استعمال کیا جاتا ہے، اور ماضی کے احتجاج میں ہونے والے نقصانات کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی تقاضے پورے کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دباؤ کے ذریعے عدالتی ریلیف حاصل کرنے کی کوششیں کیوں کی جا رہی ہیں؟

🔍 عدالت کے ریمارکس اور آئندہ کی کارروائی

  • آئینی بحران کا خدشہ: سماعت کے دوران چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے معاملے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اسے آئینی بحران قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا عدالت کی ذمے داری ہے۔
  • اگلی سماعت: لارجر بینچ اب 10 ستمبر کو اس اہم اور حساس کیس کی باقاعدہ سماعت کرے گا، جس میں تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی حکام کی پیشی متوقع ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *