بیورو رپورٹ — G24 News Online
تفصیل:
دنیا کی تقریباً دو فی صد آبادی ایلوپیشیا ایریاٹا (Alopecia Areata) نامی بیماری سے متاثر ہے، جس میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے بالوں کی جڑوں پر حملہ کرتا ہے اور شدید بال جھڑنے کا سبب بنتا ہے۔ اس بیماری کا اثر صرف جسمانی نہیں بلکہ متاثرہ افراد کی ذہنی اور نفسیاتی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
بیماری کی نوعیت اور علاج میں چیلنجز
ماہرین کے مطابق ایلوپیشیا ایریاٹا میں بالوں کے فولیکلز مستقل طور پر تباہ نہیں ہوتے، اس لیے بال دوبارہ اگ سکتے ہیں، تاہم بیماری کے علاج میں سب سے بڑا چیلنج مدافعتی نظام کے اس غلط ردعمل کو روکنا ہے۔ خاص طور پر نوعمر افراد کے لیے مؤثر علاج کے محدود آپشنز موجود ہیں اور دستیاب علاج ہر مریض میں یکساں مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔
Upadacitinib دوا کے فیز تھری ٹرائلز اور طبی نتائج
اب ایک نئی طبی تحقیق میں Upadacitinib نامی دوا (جو کہ بنیادی طور پر سوزش اور جوڑوں کے درد کے علاج میں استعمال ہوتی ہے) کو ایلوپیشیا ایریاٹا کے ممکنہ علاج کے طور پر آزمایا گیا ہے۔ بین الاقوامی محققین کی ٹیم نے اس حوالے سے بیک وقت دو فیز تھری (Phase 3) کلینیکل ٹرائلز کیے ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج مؤقر طبی جریدے جاما ڈرماٹولوجی (JAMA Dermatology) میں شائع ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی محققین کے مطابق ان ٹرائلز کے نتائج اس بات کی مضبوط امید پیدا کرتے ہیں کہ Upadacitinib مستقبل میں ایلوپیشیا ایریاٹا کے علاج کا ایک انتہائی مؤثر آپشن ثابت ہو سکتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگر مزید شواہد سے دوا کی افادیت اور حفاظت پوری طرح ثابت ہوتی ہے تو اس سے دنیا بھر میں اس بیماری سے متاثرہ لاکھوں افراد کو ریلیف مل سکے گا، خصوصاً ان مریضوں کو جن کے لیے اب تک دستیاب علاج مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔
G24 News Online صحت اور سائنس سے جڑی تمام اہم اور مصدقہ تحقیقات اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




