لائف اسٹائل ڈیسک: گُڑ کو عام طور پر سفید چینی کے مقابلے میں ایک صحت مند میٹھا سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں کچھ وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ وزن کم کرنے کے لیے سفید چینی کی جگہ گُڑ کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔ تاہم، ماہرین کے مطابق صرف گُڑ استعمال کرنے سے وزن کم نہیں ہوتا، بلکہ وزن میں کمی کا اصل انحصار مجموعی غذا اور کیلوریز کی مقدار پر ہوتا ہے۔
📌 گُڑ اور سفید چینی میں بنیادی غذائی فرق
- گُڑ کی تیاری اور غذائیت: ‘این ڈی ٹی وی’ کی رپورٹ کے مطابق گُڑ گنے یا پام کے رس سے تیار کیا جانے والا روایتی میٹھا ہے۔ یہ سفید چینی کے مقابلے میں کم پراسیس شدہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس میں آئرن، کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم اور فاسفورس جیسے قدرتی معدنیات باقی رہ جاتے ہیں۔
- سفید چینی: دوسری جانب سفید چینی کو مختلف مراحل سے گزار کر تیار کیا جاتا ہے، جس کے دوران زیادہ تر قدرتی معدنیات ختم ہو جاتے ہیں اور آخر میں یہ بنیادی طور پر صرف ’سکروز‘ پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے غذائیت کے اعتبار سے گُڑ کو سفید چینی پر معمولی برتری حاصل ضرور ہے۔

⚖️ کیلوریز کا موازنہ اور وزن کم کرنے کا خام خیال
- برابر کیلوریز: اگر بات کیلوریز کی کی جائے تو دونوں میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ 100 گرام گُڑ میں تقریباً 383 جبکہ اتنی ہی مقدار میں سفید چینی میں تقریباً 387 کیلوریز ہوتی ہیں۔ اس لیے اگر کوئی شخص گُڑ کا زیادہ استعمال کرے تو اس سے بھی وزن بڑھ سکتا ہے۔
- کیلوریز کا خسارہ (Calorie Deficit): ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے جسم میں کیلوریز کا خسارہ پیدا کرنا ضروری ہے (یعنی جتنی توانائی استعمال ہو، اس سے کم کیلوریز لی جائیں)۔ گُڑ اور سفید چینی دونوں ہی اضافی کیلوریز فراہم کرتے ہیں، لہٰذا صرف گُڑ کو وزن کم کرنے کا جادوئی ذریعہ سمجھنا درست نہیں۔
⚠️ بلڈ شوگر پر اثرات اور بہتر متبادل
- شوگر کے مریضوں کے لیے احتیاط: گُڑ بھی خون میں شوگر کی سطح پر اثر انداز ہوتا ہے کیونکہ اس میں بھی سکروز اور قدرتی شکر موجود ہوتی ہے۔ لہٰذا ذیابیطس یا بلڈ شوگر کے مسائل میں مبتلا افراد کو اس کے استعمال میں خصوصی احتیاط کرنی چاہیے۔
- صحت مند متبادل: ماہرین کے مطابق اگرچہ گُڑ سفید چینی کے مقابلے میں بہتر انتخاب ہو سکتا ہے، لیکن اس کا استعمال بھی اعتدال میں ہونا چاہیے۔ میٹھا کھانے کی خواہش پوری کرنے کے لیے تازہ پھل، مناسب مقدار میں کھجور، پھلوں کے ساتھ بغیر چینی والا دہی اور خشک میوہ جات نسبتاً بہتر متبادل ہو سکتے ہیں۔
- حاصلِ کلام: صحت مند وزن برقرار رکھنے کے لیے متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور مجموعی کیلوریز پر کنٹرول سب سے زیادہ اہم ہے۔



