تاریخ / مقام: پشاور / اسلام آباد
سیاسی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جنید اکبر کے پشاور میں دیے گئے ایک انتہائی جارحانہ بیان کے بعد ملکی سیاسی فضا ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ اسلام آباد کی ممکنہ احتجاجی کال کے تناظر میں سیاسی محاذ آرائی میں شدت آ گئی ہے۔
جنید اکبر کا پشاور میں خطاب اور دھمکی آمیز مؤقف
پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنید اکبر نے دعویٰ کیا کہ آئندہ اسلام آباد مارچ کے لیے پارٹی صرف ایک راستے سے نہیں آئے گی، بلکہ موٹروے، جی ٹی روڈ، مارگلہ کے پہاڑوں اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت تمام سمتوں سے دھاوا بولا جائے گا۔ انہوں نے ماضی کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پچھلی بار وہ ریاست کو ماں سمجھ رہے تھے اور اندازہ نہیں تھا کہ ریاست گولیاں بھی چلا سکتی ہے، اس لیے وہ خاموشی سے لاشیں اٹھا کر واپس آ گئے تھے۔ تاہم، انہوں نے دھمکی دی کہ اس بار ایسا نہیں ہوگا کہ وہ لاشیں اٹھا کر دفن کریں اور خاموش رہیں، بلکہ اس بار وہ “اسلام آباد کو سومناتھ بنا دیں گے۔”
وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کا سخت ردعمل
جنید اکبر کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کا اصل مقصد صرف اور صرف ملک میں انتشار, افراتفری اور تباہی پھیلانا ہے۔ عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ لوگ پُرامن احتجاج پر بالکل یقین نہیں رکھتے بلکہ کھلے عام تشدد اور خون خرابے کی بات کرتے ہیں، جبکہ عوام کے جان و مال اور روزگار کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ احتجاج کی یہ کال مکمل طور پر غیر قانونی اور آئین کے منافی ہے۔ سڑکیں بند کرنے، عام زندگی کو معطل کرنے اور راستے بند کرنے کی کسی کو ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، اور قانون شکنی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
G24 News Online ملکی سیاسی حالات، اہم رہنماؤں کے بیانات اور حکومتی ردعمل سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




