تحریر و تحقیق — NIMRA ASHRAF
اپنا ذاتی گھر ہر انسان کا سب سے بڑا دیرینہ خواب ہوتا ہے، لیکن مہنگائی کے اس دور میں ایک مزدور یا کم آمدنی والے شخص کے لیے زمین خرید کر اس پر مکان تعمیر کرنا ناممکنات میں سے ایک تھا۔ اس کٹھن حقیقت کو بدلنے کے لیے حکومتِ پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرِ قیادت ایک ایسا فلیگ شپ ہاؤسنگ پراجیکٹ متعارف کرایا گیا جس نے ملک کی تاریخ میں فلاحی اقدامات کے نئے باب رقم کر دیے ہیں۔ “اپنی چھت اپنا گھر“ اسکیم محض ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ نہیں بلکہ غریب عوام کی معاشی خود مختاری اور وقار کی بحالی کا نام ہے۔
آئیے اس تفصیلی بلاگ میں اس منصوبے کے ہر پہلو کا جائزہ لیتے ہیں۔
1. منصوبے کا بنیادی مقصد اور اس کا پس منظر
اس پروگرام کا بنیادی ہدف صوبے کے ایسے کم آمدنی والے خاندانوں کو سہارا دینا ہے جو یا تو کرایے کے مکانوں میں زندگی گزار رہے ہیں یا کچی بستیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ریاست اپنے کمزور طبقے کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ اس اسکیم کے تحت حکومت شہریوں کو بلاسود (Interest-Free) اور انتہائی آسان شرائط پر قرضے فراہم کرتی ہے تاکہ وہ اپنے پلاٹ پر ذاتی گھر تعمیر کر سکیں۔
2. مالیاتی ماڈل اور بلاسود قرضے کی خصوصیات
اس اسکیم کی سب سے بڑی خوبی اس کا شفاف اور لچکدار مالیاتی ڈھانچہ ہے:
- قرض کی حد: مستحق افراد کو اپنی چھت کی تعمیر کے لیے 15 لاکھ روپے (1.5 ملین) تک کے بلاسود قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔
- حومتی سبسڈی: پراجیکٹ کی کل لاگت کا ایک بڑا حصہ (تقریباً 60 فیصد تک) حکومت خود برداشت کرتی ہے جبکہ باقی ماندہ حصہ انتہائی آسان اقساط میں لیا جاتا ہے۔
- آسان ماہانہ اقساط: قرض کی واپسی کا نظام اتنا لچکدار رکھا گیا ہے کہ ماہانہ قسط صرف 14,000 روپے کے قریب بنتی ہے، جسے ایک عام خاندان آسانی سے ادا کر سکتا ہے۔
- واپسی کا دورانیہ: قرض کی واپسی کے لیے 5 سے 7 سال کا طویل عرصہ دیا جاتا ہے تاکہ عوام پر مالی بوجھ نہ پڑے۔
3. اہلیت کا معیار اور شرائط
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ امداد صرف حقیقی حقداروں تک پہنچے، حکومت نے واضح اور شفاف شرائط رکھی ہیں:
- درخواست گزار پنجاب کا مستقل رہائشی ہونا چاہیے اور اس کا شناختی کارڈ پنجاب کا حامل ہو۔
- درخواست گزار اپنے خاندان کا سربراہ (Head of Family) ہو۔
- شہری علاقوں میں زیادہ سے زیادہ 5 مرلہ اور دیہی علاقوں میں 10 مرلہ تک کا ذاتی پلاٹ ہونا لازمی ہے۔
- خاندان کا غربت کا اسکور (PMT Score) 60 فیصد یا اس سے کم ہونا چاہیے۔
- درخواست گزار کسی بھی بینک یا مالیاتی ادارے کا ڈیفالٹر نہ ہو۔
4. اسکیم کا دائرہ کار اور حالیہ عالمی اعزاز
یہ منصوبہ اب صرف ملکی سطح تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کی افادیت کو بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کر لیا گیا ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کے ادارے UN-Habitat نے اس شاندار کارکردگی پر “اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کو باوقار UN Scroll of Honour Award کے لیے منتخب کیا ہے، جو پاکستان اور بالخصوص پنجاب حکومت کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ اب تک اس اسکیم کے تحت 2 لاکھ سے زائد خاندانوں میں اربوں روپے کے قرضے تقسیم کیے جا چکے ہیں، جبکہ جوائنٹ فیملیز کے نظام کو سپورٹ کرنے کے لیے اس میں مزید توسیع بھی کر دی گئی ہے۔
آخری بات
“اپنی چھت اپنا گھر” اسکیم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر حکومتی نیت صاف ہو اور عزم پکا ہو تو ریاست عوام کی بنیادی مشکلات کو مؤثر انداز میں حل کر سکتی ہے۔ اس منصوبے نے نہ صرف ہزاروں خاندانوں کو چھت فراہم کی ہے بلکہ ملک میں تعمیراتی صنعت اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔




