تاریخ / مقام: لاہور
بیورو رپورٹ — G24 News Online
تفصیل:
پنجاب حکومت نے صوبے میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے اور ممکنہ سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات کرتے ہوئے صوبہ بھر میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اس پابندی کا مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
دفعہ 144 کے تحت عائد پابندیاں
محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر میں عوامی مقامات، شاہراہوں یا کھلی جگہوں پر 5 یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلوس نکالنے، دھرنوں یا کسی بھی قسم کے عوامی اجتماعات پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس دوران عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر بھی سخت پابندی ہو گی، جبکہ غیر قانونی اجتماعات میں لوگوں کو شرکت کی ترغیب دینے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
کن تقریبات کو استثنیٰ حاصل ہوگا؟
حکومتی نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق چند مخصوص اور ضروری امور پر نہیں ہوگا، جن میں درج ذیل شامل ہیں:
- شادی بیاہ کی تقریبات، نمازِ جنازہ اور تدفین کے امور۔
- مساجد، امام بارگاہیں اور دیگر عبادت گاہیں معمول کے مطابق کھلی رہیں گی۔
- عدالتیں، سرکاری و نیم سرکاری ادارے اور باضابطہ حکومتی اجازت سے منعقد ہونے والی تقریبات۔
- ڈیوٹی پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، انٹیلیجنس ایجنسیاں اور سیکیورٹی عملہ۔
نفاذ کی مدت اور دہشت گردی کے خطرات کا پس منظر
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق دفعہ 144 کا یہ نفاذ 13 سے 17 ستمبر تک نافذ العمل رہے گا۔ صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے موصول ہونے والی فوری نوعیت کی سیکیورٹی رپورٹس کے بعد کیا ہے۔ رپورٹس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ دہشت گرد تنظیمیں بڑے عوامی اجتماعات، ریلیوں اور جلوسوں کو اپنا آسان ہدف بنانے کی گھناؤنی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کی درخواست پر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 (6) کے تحت یہ فوری پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
G24 News Online سیکیورٹی امور، قومی سلامتی اور حکومت پنجاب کے فیصلوں سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




