جس کے دوران صوبے کے 13 اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر ایک کروڑ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔
تحریر و تحقیق۔۔ صالحہ کامران
پنجاب میں جاری خصوصی مہم کا مقصد ہر اہل بچے تک پولیو ویکسین پہنچانا اور وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کے خطرے کو کم کرنا ہے۔ مہم 21 ستمبر سے شروع ہوئی ہے جبکہ لاہور میں پولیو ویکسینیشن کا عمل 27 ستمبر تک جاری رہے گا۔ دیگر متعلقہ اضلاع میں مہم کا دورانیہ چار دن رکھا گیا ہے۔
کن اضلاع میں مہم جاری ہے؟
پولیو مہم پنجاب کے لاہور، راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ، راجن پور، رحیم یار خان، شیخوپورہ، اٹک، بہاولپور، قصور اور میانوالی کے مکمل یا مخصوص علاقوں میں جاری ہے۔
77 ہزار سے زائد پولیو ورکرز مہم کا حصہ
پنجاب ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق مہم میں 77 ہزار سے زائد پولیو ورکرز حصہ لے رہے ہیں جبکہ موبائل، فکسڈ اور ٹرانزٹ ٹیموں کی مجموعی تعداد 39,774 ہے۔ خصوصی توجہ ان علاقوں پر دی جا رہی ہے جہاں آبادی کی نقل و حرکت زیادہ ہے یا بچوں کے ویکسینیشن سے رہ جانے کا خدشہ موجود ہے۔
راولپنڈی میں تقریباً 10 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جہاں 8 ہزار سے زائد اہلکار مہم میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
والدین سے تعاون کی اپیل
حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو مہم کے دوران پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔ حکام کے مطابق کسی بچے کا سفر میں ہونا بھی ویکسینیشن سے محرومی کی وجہ نہیں بننا چاہیے، اسی لیے ٹرانزٹ پوائنٹس پر بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
پاکستان پولیو پروگرام کے مطابق ستمبر کی ملک گیر ذیلی مہم میں 115 ہائی رسک اضلاع کے 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو ویکسین دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پروگرام کے مطابق 2026 میں پاکستان میں اب تک چار وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ 1 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جس کے باعث ویکسینیشن اور نگرانی کا عمل اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ہر مہم میں بچوں تک ویکسین کی رسائی، رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی اور مؤثر نگرانی ضروری ہے۔




