تاریخ / مقام: واشنگتن
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
امریکی سیاسی اور سفارتی حلقوں میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ معروف امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی 7 روزہ جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب انہیں آئندہ مڈٹرم انتخابات کے تناظر میں مارشل لا نافذ کرنے کے عجیب و غریب مشورے بھی ملنے لگے ہیں۔
ایران کی جنگ بندی مسترد، انتخابات کے بعد دوبارہ بمباری کا عندیہ
اخبار کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اپنے معاونین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نومبر کے مڈٹرم انتخابات کے اختتام کے بعد ایران پر ایک بار پھر بمباری کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اس بات کا قطعی یقین نہیں ہے کہ تہران حکومت ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے تسلیم کرے گی۔
مڈٹرم انتخابات کے لیے مارشل لا نافذ کرنے کے مشورے
دوسری جانب امریکی میڈیا اداروں ‘سی این این’ اور ‘دی اٹلانٹک’ کی رپورٹس میں سنسنی خیز انکشاف کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بعض بیرونی مشیر انہیں آنے والے مڈٹرم انتخابات کے دوران ملک میں مارشل لا نافذ کرنے اور وفاقی سطح پر انتخابات کے پورے نظام پر کنٹرول حاصل کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ سی این این کے مطابق، ان مشیروں میں یہ شدید فکرمندی پائی جاتی ہے کہ انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے واضح امکانات موجود ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جہاں ٹرمپ کے بعض دیگر دیرینہ ساتھی اور مشیر پچھلے کئی ماہ سے انہیں انتخابات میں دھاندلی سے متعلق بے بنیاد نظریات اور خیالات سے دور رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، وہیں بیرونی مشیروں کا ایک خاص گروپ اس کے برعکس انہیں انتخابات پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جارحانہ اقدامات اٹھانے پر زور دے رہا ہے۔ ‘دی اٹلانٹک’ کے مطابق، ٹرمپ کے دیرینہ ساتھی اور وکیل پیٹر ٹکٹن نے بھی مڈٹرم انتخابات کے دوران مارشل لا نافذ کیے جانے کے امکان کا ذکر کیا ہے۔ تاہم، واضح رہے کہ یہ تمام باتیں اور تجاویز فی الحال ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کوئی باقاعدہ پالیسی یا اعلان نہیں بلکہ صرف ان کے بعض بیرونی مشیروں کے نجی مشورے اور دعوے ہیں۔
G24 News Online عالمی سیاست، امریکی انتخابات اور بین الاقوامی سفارت کاری سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




