تاریخ / مقام: تہران / نیویارک
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے نیویارک روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا جاری اجلاس دنیا میں اعتماد بحال کرنے اور جنگ و خونریزی کے خاتمے کی کوششوں میں موثر کردار ادا کرے گا۔ اس سال جنرل اسمبلی کا یہ اہم اجلاس ‘اعتماد کی بحالی’ کے عنوان سے منعقد ہو رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر باہمی اعتماد میں اضافے اور موجودہ تنازعات کے پرامن حل کے لیے نئے راستے نکلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف کارروائیوں کا معاملہ اٹھانے کا اعلان
صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایرانی وفد جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایران کے خلاف ہونے والی کارروائیوں اور ایرانی شہریوں کو پیش آنے والے نقصانات کا بھرپور انداز میں معاملہ اٹھائے گا۔ ان کے مطابق میناب اور لامرد کے علاقوں میں ایرانی بچوں اور دیگر شہریوں کو پیش آنے والے پرتشدد واقعات اور اس کے ذمہ داروں کے اقدامات کو عالمی برادری کے سامنے رکھا جائے گا۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں فروری کے دوران میناب کے ایک اسکول اور لامرد کے ایک اسپورٹس مرکز پر امریکی حملوں کے حوالے سے جنگی جرائم کے شواہد موجود ہونے کی نشان دہی کی گئی ہے، اگرچہ یہ رپورٹ تحقیقاتی مشن کے نتائج ہیں، حتمی عدالتی فیصلے نہیں۔
امریکا ایران کشیدگی اور مذاکرات کے امکانات
ایرانی صدر کا یہ دورہِ نیویارک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور محاذ آرائی کا ماحول ہے، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے امکانات بھی زیرِ بحث ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی صدر سے ملاقات کے امکان کو مسترد نہیں کیا گیا، جبکہ ایرانی وفد کو جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے امریکا کی جانب سے باضابطہ ویزے بھی جاری کیے گئے ہیں۔ صدر پزشکیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران ایران کا اصول پسند مؤقف اور خطے کی صورتحال کے حوالے سے تہران کے تحفظات عالمی رہنماؤں کے سامنے کھل کر پیش کریں گے۔
G24 News Online بین الاقوامی امور، سفارتی پیش رفت اور عالمی رہنماؤں کے بیانات سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




