تاریخ / مقام: اسلام آباد
عدالتی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کے ضمانتی وکالت نامے پیش نہ کرنے اور عدالتی احکامات کے باوجود انہیں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش نہ کرنے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔
عدالتی سماعت اور جیل حکام کی غیر حاضری
انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سِپرا نے ضمانت کی درخواستیں دائر کرنے کے لیے ایمان مزاری اور ہادی علی کے وکالت نامے نہ ملنے کے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران اڈیالہ جیل حکام کی جانب سے دونوں وکلا کے وکالت نامے آج بھی دستخط کر کے پیش نہیں کیے جا سکتیں، جبکہ جیل حکام کا کوئی بھی نمائندہ عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ اس موقع پر شیریں مزاری اور دیگر سینئر وکلا کثیر تعداد میں عدالت میں موجود تھے۔
انٹرنیٹ کا بہانہ مسترد، جج کے سخت ریمارکس
عدالتی احکامات کے باوجود جب ایمان مزاری اور ہادی علی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش نہیں کیا گیا تو جج طاہر عباس سِپرا نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالتی عملے کی جانب سے بتایا گیا کہ جیل حکام انٹرنیٹ کا مسئلہ بتا کر ملزمان کو پیش نہیں کر رہے ہیں۔ اس پر جج طاہر عباس سِپرا نے ریمارکس دیے کہ پہلے بھی ایک کیس میں انٹرنیٹ کا عذر پیش کیا گیا تھا جس پر پی ٹی سی ایل اور این ٹی سی کو آرڈر جاری کرتے ہوئے ہری پور سے ماہرین کو جیل بھیجنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جج نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ملزم کو وکالت نامے ملنا اس کا بنیادی حق ہے، اس لیے جیل حکام نہ تو عدالتوں کو دیوار کے ساتھ لگائیں اور نہ ہی خود کو مشکل میں ڈالیں۔ جج نے استفسار کیا کہ کیوں نہ سپرنٹنڈنٹ جیل کو 6 ماہ کے لیے سزا دی جائے؟
توہینِ عدالت کا نوٹس اور سماعت ملتوی
عدالت نے غفلت برتنے اور عدالتی احکامات عدولی کرنے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ منگل تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔
G24 News Online عدالتی کارروائیوں، قانونی پیش رفت اور انسانی حقوق سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




