ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

بلاگ

پنجاب میں صحت کے شعبے کے نئے منصوبے: میانوالی میں مریم نواز میڈیکل کالج اور ڈی جی خان میں کلثوم نواز کینسر ہسپتال قائم کرنے کا فیصلہ

پنجاب میں صحت کے شعبے کے نئے منصوبے: میانوالی میں مریم نواز میڈیکل کالج اور ڈی جی خان میں کلثوم نواز کینسر ہسپتال قائم کرنے کا فیصلہ
Spread the love

تحریر و تحقیق ۔۔صالحہ کامران

پنجاب میں طبی سہولیات کی بہتری کے لیے اہم پیش رفت
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں صحت کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لیے نئے طبی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ ان منصوبوں میں میانوالی میں مریم نواز میڈیکل کالج اینڈ ٹیچنگ ہسپتال کا قیام اور ڈیرہ غازی خان میں کلثوم نواز کینسر ہسپتال بنانے کا فیصلہ شامل ہے۔
26 ستمبر 2026 کو لاہور میں وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پنجاب کے مختلف شہروں میں جاری اور نئے صحت کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ حکام کو طبی منصوبوں پر کام تیز کرنے اور انہیں مقررہ وقت میں مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

میانوالی میں مریم نواز میڈیکل کالج اینڈ ٹیچنگ ہسپتال کا قیاممیانوالی میں مریم نواز میڈیکل کالج اینڈ ٹیچنگ ہسپتال کے قیام کی منظوری کو علاقے میں طبی تعلیم اور علاج کی سہولیات کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

میڈیکل کالج کے قیام سے مستقبل میں طبی تعلیم کے مواقع بڑھانے اور مقامی سطح پر ڈاکٹرز کی تربیت کے لیے سہولت فراہم کرنے کی توقع ہے۔ ٹیچنگ ہسپتال کے ساتھ منسلک ہونے کی صورت میں طلبہ کو عملی طبی تربیت اور مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔میانوالی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے لیے اس منصوبے کی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ بڑے شہروں میں علاج کے لیے سفر کرنا بعض مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔تاہم، اس منصوبے کے بستروں کی تعداد، تعمیراتی لاگت، داخلوں کے آغاز اور ہسپتال کی تکمیل کی حتمی تاریخ سے متعلق تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

ڈیرہ غازی خان میں کلثوم نواز کینسر ہسپتال کا منصوبہ
پنجاب حکومت نے ڈیرہ غازی خان میں کلثوم نواز کینسر ہسپتال قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد جنوبی پنجاب میں کینسر کے مریضوں کے لیے خصوصی طبی سہولیات کی دستیابی کو بہتر بنانے کی جانب پیش رفت کرنا ہے۔

کینسر ایک ایسا مرض ہے جس کے علاج کے لیے اکثر طویل مدتی طبی نگرانی، خصوصی ڈاکٹروں، تشخیصی ٹیسٹوں اور جدید علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے مریضوں کو بعض اوقات اپنے شہر سے باہر جا کر علاج کروانا پڑتا ہے، جس سے سفری اخراجات اور رہائش کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان میں کینسر ہسپتال قائم ہونے سے علاقے کے مریضوں کو مستقبل میں اپنے قریب خصوصی علاج کی سہولیات میسر آنے کی توقع ہے۔ اس سے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو علاج کے دوران درپیش سفری مشکلات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم، ہسپتال میں فراہم کی جانے والی مخصوص سہولیات، مثلاً کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی، سرجری اور دیگر علاج کی دستیابی کے بارے میں ابھی تفصیلی سرکاری معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

گوجرانوالہ میں 268 بستروں پر مشتمل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی
اجلاس میں گوجرانوالہ میں 268 بستروں پر مشتمل نواز شریف، مریم نواز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے قیام کے منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی۔
دل کے امراض کے علاج کے لیے خصوصی طبی اداروں کی ضرورت اس لیے اہم ہے کہ ایسے مریضوں کو بروقت تشخیص، ماہر ڈاکٹروں اور جدید طبی سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ گوجرانوالہ میں اس ادارے کے قیام سے مستقبل میں دل کے مریضوں کے لیے خصوصی علاج کی سہولیات میں اضافہ متوقع ہے۔
اس منصوبے کے حوالے سے اجلاس میں 268 بستروں کی گنجائش بتائی گئی، تاہم اس کے مکمل ہونے اور مریضوں کے لیے خدمات شروع کرنے کی حتمی تاریخ کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ اور دیگر طبی منصوبے

اجلاس میں نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ، انسٹیٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ سینٹر اور سرگودھا انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

بریفنگ کے مطابق نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ میں مختلف شعبوں کے خصوصی طبی ادارے قائم کرنے کا منصوبہ ہے، جن میں شامل ہیں:

متعدی امراض کے علاج کے لیے ادارے

پلاسٹک سرجری اور جینیٹکس کے خصوصی ادارے

سرجری اور آرتھوپیڈکس کے شعبے

چلڈرن ہسپتال ٹو

انسٹیٹیوٹ آف آپتھلمولوجی

الشفا آئی ٹرسٹ ہسپتال

100 بستروں پر مشتمل جنرل ہسپتال

ان منصوبوں کا مقصد مختلف طبی شعبوں میں خصوصی علاج کی سہولیات کو وسعت دینا ہے۔

لیہ میں میڈیکل کالج کے منصوبے کا بھی جائزہاجلاس میں لیہ میں میڈیکل کالج کے قیام سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو منصوبے پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔لیہ اور میانوالی جیسے علاقوں میں طبی تعلیم کے اداروں کا قیام مقامی طلبہ کے لیے مستقبل میں طبی تعلیم کے مواقع پیدا کرنے اور صحت کے شعبے میں تربیت یافتہ افراد کی دستیابی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم لیہ کے منصوبے کی حتمی منظوری اور اس کی تکمیل کے شیڈول کی تفصیلات الگ سے سامنے آنا باقی ہیں۔

منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زوروزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اجلاس میں متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ صحت کے منصوبوں پر کام مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے اور ان کی پیش رفت کو یقینی بنایا جائے۔صحت کے شعبے میں نئے اداروں کے قیام کے ساتھ ساتھ ان کے لیے ماہر ڈاکٹروں، طبی عملے، جدید مشینری، ادویات اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی بھی اہم ہوگی۔ منصوبوں کے عملی طور پر فعال ہونے کے بعد ہی ان سے مریضوں اور طبی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے گا۔

نتیجہ

میانوالی میں مریم نواز میڈیکل کالج اینڈ ٹیچنگ ہسپتال اور ڈیرہ غازی خان میں کلثوم نواز کینسر ہسپتال کے قیام کے فیصلے پنجاب میں طبی تعلیم اور خصوصی علاج کی سہولیات کو وسعت دینے کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔ان منصوبوں کے مکمل ہونے سے متعلقہ علاقوں میں طبی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم ان کے حقیقی فوائد کا انحصار تعمیراتی کام کی تکمیل، طبی عملے کی دستیابی، جدید آلات اور مریضوں کے لیے علاج کی سہولیات کے مؤثر انتظام پر ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *