ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

ٹرمپ کی ایران کو ’مٹانے‘ کی دھمکی پر تہران کا اقوام متحدہ سے بڑا احتجاج؛ سیکریٹری جنرل کو خط ارسال! 📉🌍

ٹرمپ کی ایران کو ’مٹانے‘ کی دھمکی پر تہران کا اقوام متحدہ سے بڑا احتجاج؛ سیکریٹری جنرل کو خط ارسال! 📉🌍
Spread the love

تاریخ / مقام: نیویارک / تہران

بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

عالمی سطح پر امریکا اور ایران کے مابین تناؤ میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایران کو مبینہ طور پر ’’مٹانے‘‘ کی دھمکی دینے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ معاملہ باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین فورم پر اٹھا دیا ہے۔

ایرانی سفیر کا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خط

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور ناظم الامور غلام حسین درزی نے 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر جیروم بونافون کے نام ایک تحریری خط ارسال کیا ہے۔ ایرانی سفیر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکی صدر کی یہ دھمکیاں اس لیے بھی زیادہ سنگین اور تشویشناک نوعیت کی حامل ہیں کیونکہ یہ انتہائی سخت اور اشتعال انگیز الفاظ اقوام متحدہ جیسے باوقار عالمی پلیٹ فارم سے ادا کیے گئے۔

خط میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کا حوالہ

ایرانی سفیر نے اپنے خط میں رواں سال 22 ستمبر کو منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کا خاص طور پر حوالہ دیا۔ یاد رہے کہ اس خطاب کے دوران امریکی صدر نے ایران کے حوالے سے سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی جامع معاہدہ طے نہ پایا تو ان کے پاس ایران کو ’’مٹانے‘‘ کا راستہ بھی موجود ہے۔ ایرانی حکومت کی جانب سے پیش کردہ اس مؤقف میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی دنیا بھر میں امن، بین الاقوامی تعاون اور ممالک کے مابین دوستانہ تعلقات کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا ایک اہم ترین پلیٹ فارم ہے، لہٰذا اس فورم سے کسی بھی رکن ملک کو تباہ کرنے کی دھمکی دینا انتہائی خطرناک اور ناقابلِ قبول ہے۔

عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور تہران کا مطالبہ

ایران نے اقوام متحدہ سے دوٹوک مطالبہ کیا ہے کہ امریکی صدر کے ان بیانات کو محض روایتی سیاسی بیان بازی سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔ ایرانی خط میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ بیانات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی اور ایک سنگین معاملہ ہیں، جس پر عالمی ادارے کو اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ یہ کشیدہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان خطے میں فوجی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ممکنہ سفارتی مذاکرات کے حوالے سے بے یقینی برقرار ہے، وہیں ٹرمپ نے اپنے اسی خطاب میں ایران کے ساتھ معاہدے کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ ثالثوں کے ذریعے رابطے بھی جاری رہے ہیں۔

G24 News Online بین الاقوامی سفارت کاری، عالمی تنازعات اور سلامتی امور سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *