تاریخ / مقام: اسلام آباد
قومی و سیکیورٹی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے باوجود صوبائی حکومت کی جانب سے فرنٹ لائن فورس کو دانستہ طور پر وسائل سے محروم رکھنے کا انکشاف ہوا ہے۔ دستیاب دستاویزات اور میڈیا رپورٹس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی نااہلی اور غلط ترجیحات کی وجہ سے کے پی پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی استعدادِ کار کو شدید ترین دھچکا لگا ہے۔
بھاری فنڈز کے باوجود پولیس بنیادی سہولیات سے محروم
رپورٹس کے مطابق وفاق اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت 1000 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم ملنے کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت پولیس اور سی ٹی ڈی کی صلاحیتیں بڑھانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اتنے کثیر وسائل کے باوجود صوبے کے سی ٹی ڈی کے پاس صرف 17 بلٹ پروف گاڑیاں اور محض 25 مستقل اہلکار موجود ہیں۔ قبائلی اضلاع میں کمزور پولیس انفرااسٹرکچر دہشت گردوں کے بارودی مواد اور جدید کواڈ کاپٹر حملوں کے سامنے انتہائی بے بس اور لاچار ثابت ہوا ہے۔
اہلکاروں کی کمی اور سیاسی اشرافیہ کی ڈیوٹیاں
دشت گردی کی آگ میں جلنے والے اس صوبے میں ایک طرف پولیس میں 17 ہزار سے زائد اہلکاروں کی شدید کمی پائی جاتی ہے، تو دوسری طرف دیدہ دلیری کا عالم یہ ہے کہ ساڑھے 13 ہزار (13,500) پولیس اہلکار صوبے کے عوام کی حفاظت کے بجائے محض سیاسی اشرافیہ کی وی آئی پی سیکیورٹی اور ذاتی ڈیوٹیوں پر مامور کیے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت کی اس ناکام حکمت عملی اور غفلت کی قیمت سال 2026 میں اب تک 220 سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں کی قیمتی جانوں کی شہادت کی صورت میں چکانی پڑی ہے۔
ڈیٹا فرانزک کے لیے پنجاب پر انحصار
دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سب سے بنیادی ہتھیار ‘ڈیٹا فرانزک’ ہوتا ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا سی ٹی ڈی کا اس معاملے میں بھی اپنا کوئی انفرااسٹرکچر نہیں ہے، اور ان کا تمام تر انحصار پنجاب کی ڈیٹا فرانزک لیبارٹری پر ہے۔ کروڑوں اور اربوں روپے کے فنڈز کے باوجود پولیس اور سی ٹی ڈی کو اس قدر بے بس رکھنا صوبائی حکومت کی نیت اور کارکردگی پر بہت بڑے سوالیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردوں کے خلاف برسرِ پیکار فرنٹ لائن پولیس فورس کو دانستہ کمزور کر کے دراصل پورے صوبے کا امن اور عوام کا مستقبل داؤ پر لگا رہی ہے۔
G24 News Online قومی سلامتی، دفاعی امور اور سرکاری کارکردگی سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




