تاریخ / مقام: پشاور / ٹانک
قومی و دفاعی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں دہشت گردی کا ایک اور بزدلانہ واقعہ پیش آیا ہے جہاں وزیر آباد کے علاقے میں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر خوارجی دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں تین نڈر اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ ایک راہگیر بھی زخمی ہوا۔ حملے کے بعد حملہ آور موٹر سائیکل پر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
شہید ہونے والے اہلکاروں کی شناخت
تھانہ سٹی پولیس کے مطابق ٹریفک پولیس کی وین پر ہونے والی اس فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل سلیم شاہ، کانسٹیبل گل آمین اور ڈرائیور پیر فیاض کے طور پر ہوئی ہے۔ اس اندوہناک واقعے میں ایک راہگیر بھی زخمی ہوا جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ عوامی حلقوں میں اس حملے کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ ٹریفک پولیس بالعموم علاقے کے مقامی افراد پر مشتمل فورس ہوتی ہے جو خالصتاً عوام کی خدمت اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے پر مامور رہتی ہے۔ ایک بار پھر صوبائی حکومت کی جانب سے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکامی پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شدید مذمت اور خراجِ تحسین
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ٹانک میں پیش آنے والے اس دہشت گردانہ واقعے کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے ٹریفک پولیس کے 3 اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے شہداء کے لواحقین کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کی۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم شہید ہونے والے بہادر اہلکاروں کی لازوال قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں اور اس دکھ کی گھڑی میں شہداء کے لواحقین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی یہ قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی، اور دہشت گردوں کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے تمام ریاستی وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
G24 News Online قومی سلامتی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور ملکی حالات سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




