تاریخ / مقام: اسلام آباد
بزنس ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان ملک کے چوتھے اقتصادی جائزے کے حوالے سے اہم مذاکرات کا سلسلہ باضابطہ طور پر جاری ہے۔ ان مذاکرات میں پاکستانی اقتصادی ٹیم کی جانب سے عالمی ادارے کو مختلف معاشی اشاریوں، ساورن ویلتھ فنڈ کے امور اور ساختیاتی اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی جا رہی ہے۔
ساورن ویلتھ فنڈ، گردشی قرضے اور چینی کے شعبے پر بریفنگ
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران پاکستانی حکام کی جانب سے ساورن ویلتھ فنڈ کے قیام اور اس کے تحت ہونے والے امور پر روشنی ڈالی جا رہی ہے، جبکہ گردشی قرضے میں کمی لانے کے لیے اٹھائے جانے والے ہنگامی اور انتظامی اقدامات سے بھی آگاہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، آئی ایم ایف کو چینی کے شعبے کو فی الحال ڈی ریگولیٹ نہ کرنے کی وجوہات اور پس منظر سے بھی مطمئن کیا جائے گا۔ وفد کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے، پرائمری سرپلس کے اہداف، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور شرح تبادلہ کی موجودہ صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔
ٹیکس اصلاحات، ایف بی آر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی
وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مابین ہونے والی نشستوں میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ٹیکس چوری روکنے اور جامع ٹیکس اصلاحات پر گہرائی سے بات چیت کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے منی لانڈرنگ کے انسداد اور دہشت گردوں کی مالی معاونت (Terror Financing) کو روکنے کے لیے کیے گئے عملی اقدامات کی رپورٹ بھی عالمی فنڈ کے حوالے کی جائے گی۔
توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور صوبائی ریونیو کی وصولی
مذاکرات کے ایک اور اہم دور میں وزارتِ توانائی کی جانب سے گردشی قرضوں کے خاتمے اور پاور سیکٹر میں اصلاحات کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں صوبوں کی سطح پر ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو کی وصولی کے نظام کو مزید بہتر بنانے اور صوبائی مالیاتی شراکت داری کو مؤثر بنانے کے اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
G24 News Online معیشت، ملکی مالیاتی پالیسیوں اور بین الاقوامی اقتصادی اداروں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




