تاریخ / مقام: اسلام آباد
سیاسی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر کڑے تنقیدی نشتر چلائے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سیاست کے کچھ بنیادی اصول ہوتے ہیں لیکن پی ٹی آئی تمام حدود پار کر چکی ہے اور خیبر پختونخوا کی حکومت ہر شعبے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
پی ٹی آئی کو کالعدم ٹی ٹی پی کی ’بی‘ ٹیم قرار دینے کا اعادہ
عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ قیادت کی نیت اور طبیعت دونوں خراب ہیں، اور وہ اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ تحریک انصاف کی قیادت دراصل کالعدم ٹی ٹی پی کی ’بی‘ ٹیم کا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اے این پی، مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی کی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف لازوال جانوں کی قربانیاں دی ہیں، لیکن صرف پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو دہشت گرد کچھ نہیں کہتے، آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی براہِ راست دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے۔
نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور پولیس کے وسائل پر سوالات
وفاقی وزیر اطلاعات نے صوبے میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دھڑلے سے کیوں چل رہی ہیں اور موٹر سائیکلوں پر بھی نمبر پلیٹ موجود کیوں نہیں؟ انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی جان بوجھ کر نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو قانونی دائرے میں نہیں لا رہی کیونکہ یہی گاڑیاں دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ وزارتِ داخلہ نے خیبر پختونخوا پولیس کو جدید گاڑیاں فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن صوبائی حکومت نے وہ لینے سے بھی انکار کر دیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے کے پی پولیس کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔
صوبائی حکومت کی کارکردگی اور این ایف سی فنڈز کا حساب
عطاء اللہ تارڑ نے کے پی حکومت کی ساڑھے 12 سالہ کارکردگی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صحت اور بنیادی سہولیات کے لیے کچھ نہیں کیا، اور آج بھی کے پی کے غریب عوام علاج کے لیے دوسرے صوبوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت فنڈز پولیس کی بہبود پر خرچ کرنے کے بجائے اپنے احتجاجی دھرنوں اور جلس جلوسوں پر لٹا رہی ہے، اور وہ پولیس کو اپنا سیاسی ونگ بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت کاؤنٹر ٹیررازم کی مد میں ملنے والے این ایف سی کے حصے کا حساب دے کہ وہ رقم کہاں خرچ کی گئی۔
آخر میں وزیر اطلاعات نے بلوچستان حکومت اور وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور اور موثر اقدامات کر رہے ہیں، جبکہ نیشنل ایکشن پلان پر ملک بھر میں بھرپور طریقے سے عمل درآمد جاری ہے جہاں پی ٹی آئی جیسی جماعتیں اس سے مکمل طور پر ناواقف ہیں۔
G24 News Online ملکی سیاست، سرکاری پالیسیوں اور سیکیورٹی امور سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




