ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

بلاگ

پنجاب میں فالج کے مریضوں کے لیے انقلابی قدم: وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا صوبے بھر میں ‘اسٹروک سینٹرز’ قائم کرنے کا اعلان

پنجاب میں فالج کے مریضوں کے لیے انقلابی قدم: وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا صوبے بھر میں ‘اسٹروک سینٹرز’ قائم کرنے کا اعلان
Spread the love

تحریر و تحقیق ۔۔صالحہ کامران
پاکستان بالخصوص پنجاب میں صحت کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ایک اہم اور تاریخی اقدام کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب بھر کے تمام بڑے ہسپتالوں اور ڈی ایچ کیوز (DHQ) میں جدید اسٹروک سینٹرز (Stroke Centres) قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ فالج (Brain Stroke) کے مریضوں کو ہنگامی بنیادوں پر بروقت اور معیاری علاج فراہم کیا جا سکے۔
یہ اقدام نہ صرف ہزاروں قیمتی جانوں کو بچانے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ فالج کے باعث پیدا ہونے والے دائمی معذوری کے خطرات کو بھی نمایاں طور پر کم کرے گا۔

فالج کا علاج اور ‘گولڈن آور’ (Golden Hour) کی اہمیت

طبّی ماہرین کے مطابق فالج کا حملہ ہوتے ہی ابتدائی 3 سے 4.5 گھنٹے انتہائی اہم ہوتے ہیں، جسے طبّی زبان میں “Golden Hour” کہا جاتا ہے۔ اگر اس مخصوص وقت کے اندر مریض کو کسی مجهز اسٹروک سینٹر پہنچا دیا جائے اور خون کا لوتھڑا (Blood Clot) حل کرنے والی دوا (TPA Injection) یا تدارکی علاج فراہم کر دیا جائے، تو دماغی خلیات کو دائمی نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔
ماضی میں پنجاب کے چند مخصوص بڑے شہروں کے علاوہ ہر ضلع میں یہ سہولت میسر نہیں تھی، جس کی وجہ سے مریضوں کو دوسرے شہروں منتقل کرنے میں قیمتی وقت ضائع ہو جاتا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے اس فیصلے سے اب تمام اضلاع کے مریضوں کو اپنے ہی قریب ترین ہسپتال میں یہ ایمرجنسی سہولت مل سکے گی۔

نئے اسٹروک سینٹرز کی نمایاں خصوصیات

وزیراعلیٰ مریم نواز کے اس وژن کے تحت قائم کیے جانے والے اسٹروک سینٹرز میں درج ذیل جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی:

  • 24/7 نیورولوجی اور ایمرجنسی ٹیم: ماہر نیورولوجسٹ اور خاص تربیت یافتہ پیرامیڈیکل اسٹاف چوبیس گھنٹے دستیاب ہوگا۔
  • جدید سی ٹی اسکین (CT Scan) اور سی ٹی اینجیوگرافی: مریض کے پہنچتے ہی منٹوں کے اندر فالج کی قسم (اسکیمک یا ہیمریجک) کی تشخیص کی جائے گی۔
  • لائف سیونگ ڈرگز کی مفت فراہمی: فالج کا لوتھڑا تحلیل کرنے والے مہنگے انجیکشنز اور ادویات مریضوں کو بلا معاوضہ فراہم کی جائیں گی۔
  • ٹیلی نیورولوجی (Tele-Neurology) نیٹ ورک: چھوٹے اضلاع کے ہسپتالوں کو بڑے ٹیچنگ ہسپتالوں کے ماہر نیورولوجسٹس کے ساتھ ڈیجیٹل طور پر منسلک کیا جائے گا تاکہ بروقت مشورہ ممکن ہو سکے۔
  • بحالی اور فزیو تھراپی یونٹس: علاج کے ساتھ ساتھ مریضوں کی مکمل بحالی کے لیے جدید فزیو تھراپی کی سہولیات بھی ان سینٹرز کا حصہ ہوں گی۔

عوام اور شعبہ صحت پر اس اقدام کے اثرات

پنجاب میں جدید اسٹروک سینٹرز کا قیام صحت کے نظام میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اس اقدام سے:

  1. معذوری کی شرح میں کمی: وقت پر علاج ملنے سے مریضوں کے فلج (Paralysis) کا شکار ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جائیں گے۔
  2. بڑے ہسپتالوں پر دباؤ میں کمی: لاہور، راولپنڈی اور ملتان کے بڑے ٹیچنگ ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم ہوگا۔
  3. غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف: فالج کا علاج انتہائی مہنگا ہوتا ہے، سرکاری سطح پر ان سینٹرز کے قیام سے عام آدمی کو لاکھوں روپے کی بچت ہوگی۔

آخری بات

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پنجاب بھر میں اسٹروک سینٹرز کی توسِیع کا یہ اقدام بلا شبہ عوامی صحت کے شعبے میں ایک مثبت اور انقلابی تبدیلی ہے۔ صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور ہر شہری تک معیاری علاج کی رسائی یقینی بنانا ہی ایک فلاحی ریاست کی اصل پہچان ہے۔ اگر ان سینٹرز کی فعال مانیٹرنگ اور تربیت یافتہ عملے کی تسلسل سے فراہمی برقرار رکھی گئی، تو یہ منصوبہ پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین ہیلتھ کیئر ماڈلز میں سے ایک ثابت ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *