تاریخ / مقام: اسلام آباد
بزنس ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
ملکی معیشت اور مالیاتی دباؤ کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے ایک اور بڑے قرض پلان کی تیاری کر لی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق رواں مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 7 ہزار 20 ارب روپے کے نئے قرضے حاصل کیے جائیں گے، جن میں ملکی اور غیر دونوں ذرائع شامل ہیں۔
مقامی اور بیرونی ذرائع سے قرضوں کا حصول
مقررہ ہدف کے تحت حکومت مقامی ذرائع سے 6 ہزار 46 ارب روپے جبکہ بیرونی ذرائع سے 813 ارب روپے حاصل کرے گی۔ اس کے علاوہ وزارتِ خزانہ نے رواں مالی سال نجکاری کے ذریعے 161 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ بھی لگایا ہے۔ مقامی قرضوں کے حوالے سے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (PIBs) سے 4 ہزار 580 ارب روپے جبکہ سکوک اور دیگر اسلامی مالیاتی ذرائع سے 3 ہزار 785 ارب روپے خالص قرض لینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
بیرونی قرضوں اور بانڈز کے تخمینے
وزارتِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق حکومت کے مجموعی بیرونی قرضے 13 ارب 37 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ اس دوران 10 ارب 57 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی ادائگیاں متوقع ہیں۔ اس طرح بیرونی ذرائع سے خالص 2 ارب 80 کروڑ 40 لاکھ ڈالر حاصل ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے، جبکہ رواں مالی سال 2 ارب ڈالر کے نئے بانڈز جاری کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے (یاد رہے کہ 3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے)۔
2026 سے 2028 تک کی تین سالہ قرض حکمتِ عملی
حکومت نے سال 2026 سے 2028ء تک کے لیے تین سالہ قرض کی نئی حکمتِ عملی بھی فائنل کر دی ہے۔ اس پالیسی کے تحت طویل المدتی فکسڈ ریٹ اور زیرو کوپن بانڈز کے اجرا کو خصوصی ترجیح دی جائے گی، جبکہ قلیل المدتی اور فلوٹنگ ریٹ والے قرضوں کو محدود رکھا جائے گا۔ وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ آسان شرائط پر طویل المدتی قرضے، شرعی اصولوں کے مطابق بانڈز اور بینکوں کے علاوہ دیگر سرمایہ کاروں کی شمولیت کو ترجیح دی جا رہی ہے، تاہم اس پوری حکمتِ عملی کا نفاذ عالمی معاشی حالات، جغرافیائی سیاسی صورتحال اور سخت مالیاتی نظم و ضبط سے مشروط ہوگا۔
G24 News Online معیشت، ملکی مالیات اور اقتصادی پالیسیوں سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




