تاریخ / مقام: اسلام آباد
بزنس ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے درمیان جاری چوتھے اقتصادی جائزے کے مذاکرات کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پہلی سہ ماہی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (FBR) کا مقرر کردہ 3 ہزار 53 ارب روپے کا کلیدی ٹیکس ہدف کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیا جائے گا۔
ایف بی آر کے اہداف اور ستمبر کی وصولیاں
ایف بی آر حکام نے عالمی مالیاتی ادارے کے مشن کو یقین دلایا ہے کہ نہ صرف ستمبر کے مہینے کے لیے ایک ہزار 330 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کیا جائے گا، بلکہ جولائی سے ستمبر 2026 تک کی پہلی سہ ماہی کا مجموعی ٹیکس ہدف بھی پورا کر لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، اور ٹیکس ایئر 2026 کے لیے اب تک ملک بھر سے تقریباً 47 لاکھ انکم ٹیکس ریٹرنز موصول ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران 32 لاکھ انکم ٹیکس ریٹرنز جمع ہوئے تھے جو کہ ٹیکس دہندگان کے رجحان میں خوش آئند اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
سرکاری افسران کے اثاثوں کی ڈیکلریشن اور نئی ہدایات
دوسری جانب شفافیت کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے انتظامی سطح پر بھی اہم اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ نئے قانونی فریم ورک کے تحت گریڈ 17 سے لے کر گریڈ 22 تک کے تمام وفاقی سرکاری افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 30 اکتوبر 2026 تک اپنے اثاثوں کے گوشوارے الیکٹرانک طور پر لازمی جمع کرائیں۔ اس نئے فریم ورک کے تحت وفاقی سرکاری افسران کے اثاثوں سے متعلق محدود معلومات 31 دسمبر 2026 تک عامتہ الناس کے لیے بھی جاری کر دی جائیں گی تاکہ انتظامی امور میں مزید شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
G24 News Online معیشت، مالیاتی پالیسیوں اور ملکی تجارت سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




