تاریخ / مقام: واشنگٹن / دوحہ / تہران
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
واشنگٹن اور تہران کے مابین سفارتی ڈیڈلاک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل برقرار ہے جبکہ خلیجی ریاست قطر کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی تمام تر ثالثی کوششیں تاحال کسی بڑی پیش رفت کا باعث نہیں بن سکی ہیں۔
قطر کی ثالثی اور ایگزیوس کے انکشافات
باخبر امریکی میڈیا ذرائع (ایگزیوس) کے مطابق قطر کے حکام دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے مسلسل فعال رابطے کر رہے ہیں۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ دوحہ فریقین کے مابین پیغامات کا تبادلہ اور مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ رابطوں کے دوران قطری ثالث علی الثوادی نے نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے کئی گھنٹے طویل ملاقات کی، جس میں ایک ایسے سمجھوتے کی تجویز پر غور کیا گیا جس کے تحت ایران کے آبنائے ہرمز سے متعلق مطالبات اور امریکا کے جوہری پروگرام سے متعلق مطالبات کو ایک ہی مشترکہ فریم ورک میں لایا جا سکے۔ عراقچی سے ملاقات کے بعد قطری ثالث نے امریکی حکام سے بھی تفصیلی رابطہ کیا۔
فریقین کے بنیادی مطالبات اور تنازعات
حالیہ دنوں میں ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت مخصوص شرائط کی تکمیل پر آبنائے کی بحالی اور وسیع تر مذاکرات شروع کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابتدائی طور پر اس تجویز کو مسترد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم بعد میں یہ عندیہ بھی دیا گیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مزید مذاکرات متوقع ہیں۔ اس کے باوجود دونوں اطراف کے بنیادی مؤقف میں گہرا تضاد پایا جاتا ہے؛ امریکا کا اصرار ہے کہ کسی بھی جامع معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کو لازمی طور پر شامل کیا جائے، جبکہ تہران آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکی بحری ناکہ بندی جیسے امور کو فوری طور پر ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
مستقبل کی سفارتی کوششیں اور تعطل
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے نفاذ سے جڑے یہ بنیادی اختلافات ہی موجودہ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اگرچہ قطر کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی ثالث بھی فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، تاہم فی الحال کوئی ایسا ٹھوس معاہدہ یا پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے جو فریقین کے درمیان موجود خلیج کو ختم کر سکے۔
G24 News Online بین الاقوامی سفارت کاری، عالمی معیشت اور خطے کی صورتحال سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




