ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

شوبز

اروشی روٹیلا کا اے آئی کمپنی کو قانونی نوٹس، 7 ہزار کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ! 🇮🇳📉

اروشی روٹیلا کا اے آئی کمپنی کو قانونی نوٹس، 7 ہزار کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ! 🇮🇳📉
Spread the love

تاریخ / مقام: ممبئی / لاس اینجلس

شوبز و ٹیکنالوجی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے نتیجے میں شخصیات کی پرائیویسی اور حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اروشی روٹیلا کی قانونی ٹیم نے لاس اینجلس میں قائم ایک آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی کے خلاف باضابطہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جس میں اداکارہ کے نام، تصاویر اور ویڈیوز کو بغیر اجازت استعمال کرنے پر 7 ہزار کروڑ روپے کے ہرجانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

قانونی نوٹس اور ٹیم کا مؤقف

اداکارہ کی ٹیم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ متعلقہ اے آئی کمپنی نے اروشی روٹیلا کی پیشگی اجازت کے بغیر ان کی شناخت، تصاویر اور ذاتی مواد کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ کسی بھی فرد کے نام، شباہت یا بائیو میٹرک شناخت کو بغیر اجازت استعمال کرنا سنگین خلاف ورزی ہے، اور اسی کے پیشِ نظر قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے ہرجانے کا تخمینہ 7 ہزار کروڑ روپے لگایا گیا ہے تاکہ آرٹسٹوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

سلمان خان کے بھی اے آئی کے غلط استعمال پر تحفظات

دوسری جانب مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ مواد اور ڈیجیٹل نقالی (Deepfakes) کے بڑھتے ہوئے خطرات پر بالی ووڈ کے سپرسٹار سلمان خان نے بھی اپنے شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ حال ہی میں ریئلٹی شو ’بگ باس 20‘ کی ایک قسط کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اے آئی ٹیکنالوجی کے منفی استعمال اور لوگوں کی تصاویر، ویڈیوز اور آوازوں کو بغیر اجازت ایڈٹ یا ڈب کرنے کے مسئلے پر روشنی ڈالی۔ سلمان خان کا کہنا تھا کہ آج کل ٹیکنالوجی اس حد تک خطرناک حد تک آگے بڑھ چکی ہے کہ اس کا غلط استعمال خوفزدہ کرنے والا محسوس ہوتا ہے، جو کہ ایک انتہائی سنجیدہ اور قابلِ تشویش معاملہ ہے۔

G24 News Online شوبز انڈسٹری، ڈیجیٹل سکیورٹی اور جدید ٹیکنالوجی سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *