ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

تفریح

جنت مرزا کی جعلی اے آئی ویڈیو کا معاملہ؛ حنا پرویز بٹ کا سخت کارروائی کا مطالبہ! 📉💻

جنت مرزا کی جعلی اے آئی ویڈیو کا معاملہ؛ حنا پرویز بٹ کا سخت کارروائی کا مطالبہ! 📉💻
Spread the love

تاریخ / مقام: لاہور / اسلام آباد

ٹیکنالوجی و معاشرہ ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

پاکستانی معروف ٹک ٹاکر اور اداکارہ جنت مرزا کی مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کردہ ایک جعلی ویڈیو کے سوشل میڈیا پر گردش کرنے کے بعد خواتین کی ڈیجیٹل پرائیویسی، چہروں کے غیر مجاز استعمال اور آن لائن تحفظ کا معاملہ شدت سے بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ اس وائرل ویڈیو میں جنت مرزا کو ایک نامعلوم شخص کے ساتھ دکھایا گیا، جس پر انہوں نے انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

جنت مرزا کا تشویشناک ردعمل اور خدشات

جنت مرزا نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے واضح کیا کہ اس مواد میں انہیں کوئی بھی مزاح نظر نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی انسان کی اجازت کے بغیر اس کے چہرے کو ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے اس نوعیت کی ویڈیوز میں استعمال کرنا انتہائی تشویشناک عمل ہے، اور اس کے منفی اثرات کسی ایک شخصیت تک محدود نہیں رہتے۔ اداکارہ نے خبردار کیا کہ آج ان کا چہرہ استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن کل یہی ہتھکنڈا کسی بھی دوسری عام لڑکی کے ساتھ بھی اپنایا جا سکتا ہے جس سے اس کی عزت، وقار اور ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ان خواتین کی طرف توجہ دلائی جو سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتی ہیں، کیونکہ ایسی خواتین کی تصاویر بھی ان کی لاعلمی میں استعمال ہو سکتی ہیں اور انہیں اس مکروہ عمل کی خبر تک نہیں ہوتی۔

حنا پرویز بٹ کا سخت نوٹس اور قانونی کارروائی کا مطالبہ

اس حساس معاملے پر پنجاب اسمبلی کی رکن حنا پرویز بٹ نے بھی بھرپور آواز اٹھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI) آج کے دور کی ایک اہم اور کارآمد ٹیکنالوجی ہے، لیکن اس کا غلط استعمال کسی کی بھی عزت، وقار یا پرائیویسی کو پامال کرنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ حنا پرویز بٹ نے خواتین کی تصاویر اور چہروں کے غیر مجاز استعمال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے واقعات کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی عمل میں لائیں۔ انہوں نے متاثرہ خواتین پر زور دیا کہ وہ ایسے مواد کو معمولی یا بے ضرر آن لائن معاملہ سمجھ کر نظر انداز ہرگز نہ کریں بلکہ اس کے خلاف مناسب قانونی لائحہ عمل اختیار کریں۔

متاثرین کے لیے ہدایات اور سائبر کرائم سے رجوع

مسئلے سے نمٹنے کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہوئے حنا پرویز بٹ نے ہدایت کی کہ متاثرہ افراد کو ایسے نامناسب مواد کا اسکرین شاٹ یا اصل لنک بطور ثبوت محفوظ کر لینا چاہیے، تاہم اسے مزید آگے پھیلانے یا شیئر کرنے سے مکمل گریز کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس نوعیت کے تمام معاملات کو فوری طور پر متعلقہ سائبر کرائم اداروں تک پہنچانا ضروری ہے، جبکہ پنجاب میں مقیم متاثرہ خواتین مدد اور رہنمائی کے لیے “پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی” سے بھی رابطہ کر سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنت مرزا کے اس واقعے نے ایک بار پھر اس خطرناک رجحان کو آشکار کر دیا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے کس طرح کسی کی شناخت کو مسخ کرکے گمراہ کن مواد تیار کیا جا سکتا ہے۔ اس نوعیت کے واقعات نے ڈیجیٹل دنیا میں رضامندی (Consent)، پرائیویسی اور خواتین کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

G24 News Online ڈیجیٹل حقوق، سائبر سیکیورٹی اور معاشرتی مسائل سے جڑی تمام اہم خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *