تاریخ / مقام: تہران / واشنگٹن
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
خطے میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک پانیوں میں امریکا کا دوسرا زیرِ آب ڈرون پکڑ لیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ ایک خودکار زیرِ آب گاڑی (Autonomous Underwater Vehicle) تھی جو مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں نگرانی اور جاسوسی کی سرگرمیوں میں مصروف تھی۔
پاسدارانِ انقلاب کی پیچیدہ کارروائی اور ڈرون تحویل میں لینا
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سرکاری میڈیا ادارے ’سپاہ نیوز‘ کے مطابق اس امریکی ڈرون کو ایک مربوط اور انتہائی پیچیدہ کارروائی کے دوران قابو کیا گیا، جس میں جدید انٹیلی جنس معلومات اور الیکٹرانک وارفیئر (Electronic Warfare) کی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کیا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ قبضے میں لیے گئے اس ڈرون کو مزید تجزیے کے لیے ماہرین کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ اس میں موجود اہم معلومات اور ڈیٹا تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
سلسلہ وار واقعات اور ماضی کا دعویٰ
رپورٹس کے مطابق ایران کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ اس نوعیت کا دوسرا امریکی زیرِ آب ڈرون ہے جسے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے علاقے سے پکڑا گیا ہے۔ اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ستمبر کے آغاز میں بھی ایک ’ڈائیو ایل ڈی‘ (Dive-LD) نامی امریکی خودکار زیرِ آب گاڑی کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا، جو سمندری نگرانی کے مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا ردعمل
دوسری جانب، امریکی عسکری حکام نے ایرانی دعوے کو سرے سے مسترد کر دیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں ایرانی دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکا اپنے تمام فعال اور تنصیب شدہ ڈرون اثاثوں کا مکمل کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے اور اس کے کسی بھی اثاثے کے قبضے میں جانے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں۔
G24 News Online بین الاقوامی سفارت کاری، دفاعی امور اور دنیا بھر کی تمام اہم خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




