تاریخ / مقام: تہران / واشنگٹن
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران نے تصدیق کی ہے کہ اسے جنگ ختم کرنے سے متعلق اپنی تازہ ترین تجویز پر امریکا کا باضابطہ جواب موصول ہوگیا ہے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ امریکی جواب صدر مسعود پزشکیان کے سامنے کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا۔
صدر مسعود پزشکیان کا مؤقف اور کابینہ کا اجلاس
کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران اس معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی سمجھوتے کی بنیاد دونوں فریقوں کے لیے یکساں طور پر قابل قبول اور باہمی مفاد پر مبنی ہونی چاہیے۔ ایرانی حکام کی جانب سے تاحال امریکی جواب کے تفصیلی مندرجات ظاہر نہیں کیے گئے ہیں، اور یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ واشنگٹن نے تہران کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے یا مذاکرات کو آگے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
قطری ثالثوں کا کردار اور پس منظر
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، یہ امریکی جواب قطری ثالثوں کے ذریعے وزیر خارجہ عباس عراقچی تک پہنچایا گیا۔ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات میں بنیادی اختلاف مجوزہ اقدامات کی ترتیب پر بتایا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ ایران نے گزشتہ ہفتے ایک سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے کے بدلے اعتماد سازی کے اقدامات اور دیگر شرائط شامل تھیں۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ایرانی پیشکش کو عوامی طور پر مسترد کر دیا تھا، تاہم تہران کا مؤقف تھا کہ اسے واشنگٹن کی جانب سے کسی بھی باضابطہ جواب کا انتظار ہے۔
سفارتی کوششیں اور اگلا مرحلہ
عباس عراقچی نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کا دورہ کیا تھا، جہاں ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوئے۔ ان ملاقاتوں کے دوران قطری اور پاکستانی ثالثوں نے بھی سفارتی رابطوں کو فعال رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اب جبکہ تہران کو امریکی جواب باضابطہ طور پر مل چکا ہے، سفارتی کوششوں کا اگلا مرحلہ انتہائی نازک اور اہم ہو گیا ہے۔ تاہم، جب تک جواب کی مکمل اور واضح شرائط سامنے نہیں آتیں، یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ دونوں ممالک جنگ بندی کے قریب پہنچ رہے ہیں یا مذاکرات میں مزید اختلافات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
G24 News Online بین الاقوامی سفارت کاری، خطے کے حالات اور تمام اہم عالمی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




