تاریخ / مقام: تہران
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران نے کبھی بھی سفارتی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کرے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امن عمل کے دوران امریکا کی جانب سے تین مرتبہ حملے کیے جانے کے باوجود ایران مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔
کاروباری شخصیات سے ملاقات اور مذاکرات سے متعلق مؤقف
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے کاروباری شخصیات سے ایک اہم ملاقات کے دوران خطاب کرتے ہوئے ملکی معیشت اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت کاروباری طبقے کو درپیش تمام مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے انتہائی سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ جنگی صورتحال اور کشیدگی کے تناظر میں ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی طرف سے متعدد بار حملے کیے جانے کے باوجود ایران امن اور مذاکرات کی میز سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملکی قیادت کے درمیان تمام اہم امور کے حل کے لیے بہترین ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
بحری پابندیوں کے متبادل اور زمینی تجارت کا فروغ
ایرانی صدر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ موجودہ حالات میں سمندری راستوں پر پابندیوں کے باعث بعض تجارتی مشکلات کا سامنا ہے، تاہم تہران ان رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے تجارت کے متبادل ذرائع تیزی سے تلاش کر رہا ہے۔
- اس سلسلے میں پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان کے ساتھ زمینی راستوں کے ذریعے درآمدات اور برآمدات کے حجم کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
- واضح رہے کہ پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، اور حالیہ دنوں میں فریقین کو ایک دوسرے کے مطالبات اور نکات بھی پہنچائے گئے ہیں۔
G24 News Online بین الاقوامی سفارت کاری، خطے کے حالات اور تمام اہم عالمی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




