ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

وفاقی آئینی عدالت کے 126 صفحات پر مشتمل نئے رولز جاری؛ اہم قانونی معاملات کی تفصیلات سامنے آ گئیں! 🇵🇰⚖️

وفاقی آئینی عدالت کے 126 صفحات پر مشتمل نئے رولز جاری؛ اہم قانونی معاملات کی تفصیلات سامنے آ گئیں! 🇵🇰⚖️
Spread the love

تاریخ / مقام: اسلام آباد

قومی اور قانونی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

اسلام آباد میں وفاقی آئینی عدالت کے 126 صفحات پر مشتمل جامع اور تفصیلی رولز باضابطہ طور پر پبلک کر دیے گئے ہیں۔ ان نئے قوانین میں توہینِ عدالت، نظرثانی درخواستوں، سزائے موت، التوا کے سخت ضوابط، آرٹیکل 63A کے تحت اپیلوں، زبانی دلائل کی مدت، بینچوں کی تشکیل اور وکلا سے متعلق تمام قواعد و ضوابط کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

توہینِ عدالت، نظرثانی اور سزائے موت سے متعلق ضوابط

جاری کردہ رولز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت توہینِ عدالت کا ازخود نوٹس لینے کے ساتھ ساتھ کسی بھی شہری کی جانب سے دائر درخواست پر بھی باقاعدہ کارروائی چلا سکے گی۔ کسی بھی مبہم، بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست یا التوا کی درخواست پر کم از کم 25 ہزار روپے کے اخراجات (جرمانہ) عائد کیے جا سکیں گے، جبکہ نظرثانی درخواست کی سماعت سے قبل 50 ہزار روپے زرِ ضمانت جمع کرانا لازمی ہوگا۔ رولز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سزائے موت سے متعلق نظرثانی درخواست دائر ہونے پر رجسٹرار متعلقہ حکومت کو فوری آگاہ کرے گا اور مقدمے کے فیصلے تک سزائے موت پر عملدرآمد خودکار طور پر (Automatic Suspension) معطل رہے گا، جس کے لیے عدالت کے الگ سے حکم کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ہیبیس کارپس اور فوجداری اپیلوں کا طریقہ کار

رِٹ آف ہیبیس کارپس کی درخواست رجسٹری یا برانچ رجسٹری میں دائر کی جائے گی جس کے ساتھ زیر حراست شخص یا حقائق سے واقف کسی دوسرے فرد کا حلف نامہ منسلک کرنا ہوگا۔ آئین کے آرٹیکل 175E کی شق 3 کے تحت ایسی درخواست 7 دن کے اندر سماعت کے لیے مقرر ہوگی اور اس پر کوئی عدالتی فیس عائد نہیں کی جائے گی۔ فوجداری مقدمے میں اپیل کی اجازت کی درخواست فیصلے یا حتمی حکم کی تاریخ سے 60 دن کے اندر دائر کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ التوا کو سختی سے مستثنیٰ معاملہ قرار دیا گیا ہے اور بلاجواز یا تاخیر کی غرض سے دائر التوا کی درخواستیں جرمانے کے ساتھ مسترد کر دی جائیں گی۔

آرٹیکل 63A کے تحت اپیلیں اور زبانی دلائل کی مدت

رولز کے مطابق آرٹیکل 63A کے تحت الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں 30 دن کے اندر اپیل دائر کی جا سکے گی، جبکہ ہر ایسی اپیل کا فیصلہ دائر ہونے کے 90 دنوں کے اندر کرنا لازم ہوگا۔ عدالت میں مقدمات کی جلد سماعت اور کارروائی کو مؤثر بنانے کے لیے ہر فریق کو زبانی دلائل کے لیے عام طور پر 10 منٹ (جبکہ قانون کے اہم سوالات پر مشتمل مقدمات میں 30 منٹ) کا وقت دیا جائے گا، اور فریقین کو سماعت سے کم از کم 2 دن پہلے مختصر تحریری دلائل جمع کرانا ہوں گے۔

بینچوں کی تشکیل اور وکلا سے متعلق قوائد

عدالت میں ہر مقدمہ یا اپیل کم از کم 2 ججز پر مشتمل بینچ سنے گا، تاہم پیچیدہ یا عوامی اہمیت کے حامل مقدمات کے لیے چیف جسٹس بڑے بینچ تشکیل دینے کا اختیار رکھتے ہیں۔ دوسری جانب وکلا کے حوالے سے طے کیا گیا ہے کہ سینئر ایڈووکیٹس، ایڈووکیٹس اور ایڈووکیٹس آن ریکارڈ کے الگ الگ رولز برقرار رہیں گے۔ پیشہ ورانہ بدعنوانی یا بدسلوکی میں ملوث پائے جانے والے وکیل کا نام رول سے خارج کیا جا سکے گا، جبکہ سینئر ایڈووکیٹ کے لیے انرولمنٹ فیس ایک لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

G24 News Online ملکی قانون، عدلیہ کے فیصلوں اور تمام اہم قومی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *