تحریر و تحقیق ۔۔ صالحہ کامران
پانی انسانی جسم کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے۔اوسط انسانی جسم کا تقریبا 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔جسم کے تقریباً ہر اہم نظام کو درست انداز میں کام کرنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن مصروف زندگی میں بہت سے لوگ پیاس لگنے تک پانی پینے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ مسلسل کم پانی پینے سے جسم میں پانی کی کمی یعنی Dehydration پیدا ہو سکتی ہے۔
پانی کی کمی کی عام علامات
جسم میں پانی کم ہونے کی صورت میں پیاس، منہ کا خشک ہونا، تھکن، کمزوری، سر درد اور پیشاب کا رنگ گہرا ہونا جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ بعض افراد میں چکر یا توجہ مرکوز کرنے میں دشواری بھی محسوس ہو سکتی ہے۔
گردوں پر اثر
گردے جسم سے فاضل مادوں کو خارج کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اس عمل کے لیے مناسب مقدار میں پانی ضروری ہے۔ پانی کی کمی کی صورت میں پیشاب کم ہو سکتا ہے اور بعض حالات میں گردوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہےجس سے فاضل مادے گردوں میں اکٹھے ہو کر پتھریوں کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
ہاضمہ بھی متاثر ہو سکتا ہے
مناسب پانی پینا نظامِ ہاضمہ کے لیے بھی اہم ہے۔ پانی کی کمی بعض افراد میں قبض کی شکایت کو بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر جب خوراک میں فائبر بھی کم ہو۔
جسمانی کارکردگی میں کمی
جسم میں پانی کی کمی ہونے پر تھکن اور کمزوری محسوس ہو سکتی ہے، جس سے روزمرہ کام اور جسمانی سرگرمی متاثر ہو سکتی ہے۔ ورزش یا شدید گرمی کے دوران پانی کی ضرورت مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ پسینے کے ذریعے جسم سے پانی خارج ہوتا ہے۔
کتنا پانی پینا چاہیے؟
ہر شخص کے لیے پانی کی ضرورت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ موسم، جسمانی سرگرمی، عمر، خوراک اور صحت کی صورتحال کے مطابق پانی کی ضرورت مختلف ہو سکتی ہے۔
اس لیے صرف ایک مقررہ مقدار کو ہر فرد کے لیے لازمی سمجھنا درست نہیں۔پیاس، پیشاب کے رنگ اور جسم کی مجموعی کیفیت پر توجہ دینا مددگار ہو سکتا ہے۔ شدید گرمی، ورزش یا بیماری کے دوران پانی کی ضرورت کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
پانی کو روزمرہ عادت بنائیں
پانی کی کمی سے بچنے کے لیے دن بھر وقفے وقفے سے پانی پینا بہتر عادت ہے۔ گھر سے باہر جاتے وقت پانی ساتھ رکھنا، کھانے کے اوقات میں پانی پینا اور شدید گرمی یا ورزش کے دوران جسم کی ضرورت کے مطابق سیال چیزوں کا استعمال پانی کی کمی سے بچاؤ میں مدد دے سکتا ہے۔
پانی کی کمی سے منسلک اہم مسائل
پیشاب کی نالی کا انفیکشن (UTI): کم پانی پینے سے پیشاب کم اور زیادہ گاڑھا ہو سکتا ہے، جس سے بعض افراد میں UTI کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
گردے کی پتھری: مناسب پانی نہ پینے سے پیشاب زیادہ مرتکز ہو جاتا ہے، جس سے بعض اقسام کی گردے کی پتھری بننے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
قبض: پانی کی کمی پاخانے کو سخت کر سکتی ہے اور قبض کو بڑھا سکتی ہے۔
شدید Dehydration: زیادہ پانی ضائع ہونے اور مناسب مقدار میں پانی نہ لینے سے شدید پانی کی کمی ہو سکتی ہے، جو خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے۔
گرمی سے متعلق بیماریاں: شدید گرمی یا ورزش کے دوران پانی کی کمی سے ہیٹ ایگزاسشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
گردوں کی کارکردگی متاثر ہونا: شدید یا مسلسل پانی کی کمی گردوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے اور سنگین صورتوں میں گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اہم بات: ہر بیماری صرف پانی کم پینے کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ اگر پیشاب بہت کم ہو جائے، شدید چکر آئیں، بے ہوشی، الجھن، بہت زیادہ کمزوری یا مسلسل الٹی/دست ہوں تو فوری طبی مدد لینا ضروری ہے۔
پانی صرف پیاس بجھانے کا ذریعہ نہیں بلکہ جسم کے معمول کے افعال کے لیے بھی ضروری ہے۔ اس لیے پانی پینے کو روزمرہ صحت مند عادات کا حصہ بنانا چاہیے۔




