ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

صحت

خود سے دوائیں لینے کا رجحان: معمولی بیماری کب خطرناک بن سکتی ہے؟

خود سے دوائیں لینے کا رجحان: معمولی بیماری کب خطرناک بن سکتی ہے؟
Spread the love

تحریر و تحقیق ۔۔ صالحہ کامران

بیماری کی معمولی علامات ظاہر ہوتے ہی اکثر لوگ ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے بجائے گھر میں موجود دوائیں استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ سر درد، بخار، کھانسی، نزلہ، جسم میں درد یا معدے کی تکلیف جیسی علامات میں خود سے دوا لینا عام بات بن چکی ہے، لیکن یہ عادت بعض اوقات صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ہر علامت کے لیے ایک ہی دوا مناسب نہیں

ایک جیسی علامات مختلف بیماریوں کی وجہ سے پیدا ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر بخار صرف عام انفیکشن کی علامت نہیں بلکہ کئی دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح درد کی دوا وقتی آرام تو دے سکتی ہے، لیکن اگر درد کی اصل وجہ معلوم نہ کی جائے تو بنیادی مسئلہ نظر انداز ہو سکتا ہے۔

اینٹی بایوٹک کا غیر ضروری استعمال

خود سے دوا لینے میں سب سے اہم مسئلہ اینٹی بایوٹکس کا غیر ضروری استعمال ہے۔ ہر بخار، نزلہ یا کھانسی میں اینٹی بایوٹک ضروری نہیں ہوتی۔زکام عام طور پر ایک وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے۔بغیر طبی مشورے کے اینٹی بائیوٹک کا استعمال جراثیم میں مزاحمت پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے، جس سے مستقبل میں بعض انفیکشنز کا علاج مشکل ہو سکتا ہے۔

دوا کی مقدار بھی اہم ہے

کسی دوا کی زیادہ مقدار لینا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ زیادہ تیزی سے اثر کرے گی۔ مقررہ مقدار سے زیادہ دوا لینے سے مضر اثرات اور بعض اوقات سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا افراد کے لیے خاص احتیاط ضروری ہے۔

کن حالات میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے؟

اگر علامات مسلسل برقرار رہیں، تیزی سے بڑھ رہی ہوں، بار بار واپس آ رہی ہوں یا شدید نوعیت کی ہوں تو خود سے علاج جاری رکھنے کے بجائے طبی مشورہ لینا بہتر ہے۔ سانس لینے میں دشواری، سینے میں شدید درد، بے ہوشی، شدید الرجی، غیر معمولی خون بہنا یا اچانک بہت زیادہ کمزوری جیسی علامات میں فوری طبی امداد ضروری ہو سکتی ہے۔

صحت کے لیے محتاط رویہ اپنائیں

دوائی استعمال کرنے سے پہلے اس کا نام، مقدار، ممکنہ مضر اثرات اور دوسری ادویات کے ساتھ اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں مستند طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔ کسی دوسرے شخص کی تجویز کردہ دوا کو اپنی علامات کے لیے استعمال کرنا بھی مناسب نہیں، کیونکہ ہر فرد کی عمر، صحت اور بیماری کی صورتحال مختلف ہوتی ہے۔

خود سے دوا لینا وقتی طور پر آسان محسوس ہو سکتا ہے، لیکن درست تشخیص کے بغیر علاج بعض اوقات مسئلے کو چھپا سکتا ہے یا مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ صحت کے معاملے میں احتیاط، بروقت تشخیص اور مستند طبی مشورہ ہمیشہ اہم ہے۔

ایک تبصرہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *