ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

صحت

موسم بدلتے ہی گلا خراب کیوں ہوتا ہے؟ عام وجوہات اور احتیاطی تدابیر

موسم بدلتے ہی گلا خراب کیوں ہوتا ہے؟ عام وجوہات اور احتیاطی تدابیر
Spread the love

تحریر و تحقیق ۔۔صالحہ کامران

موسم کے بدلتے ہی، خصوصاً گرمیوں سے سردیوں یا بارش کے دنوں میں، گلے میں خرابی، چبھن اور درد کی شکایت بہت عام ہو جاتی ہے۔ موسم میں یہ تبدیلی ہمارے جسم امیون سسٹم اور ارد گرد کے ماحول پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

موسم بدلتے ہی گلا خراب ہونے کی عام وجوہات

ہوامیں نمی کی کمی (خشک ہوا):

سردیوں کے آغاز میں ہوا خشک ہو جاتی ہے۔ خشک ہوا میں سانس لینے سے گلے کی اندرونی جھلی (Mucous Membrane) کی نمی ختم ہو جاتی ہے، جس سے گلے میں خشکی، خارک اور سوزش پیدا ہوتی ہے۔

وائرل انفیکشنز کا پھیلاؤ:

موسم میں تبدیلی کے دوران وائرس (جیسے کولڈ وائرس یا انفلوئنزا) زیادہ فعال ہو جاتے ہیں۔ درجہ حرارت میں اچانک کمی جسمانی مدافعت کو عارضی طور پر کمزور کرتی ہے، جس سے وائرل انفیکشنز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

الرجی اور گرد و غبار:

تپش اور ہوا میں تبدیلی کے ساتھ ہوا میں گرد و غبار، پولن اور پولیوٹنٹس کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو گلے میں الرجک ردِعمل (Allergic Reaction) کا باعث بنتے ہیں۔

ٹمپریچر کا اچانک بدلنا:

گرم ماحول سے اچانک ٹھنڈے ماحول میں جانا یا دم گھٹنے والے ماحول سے کھلی ٹھنڈی ہوا میں نکلنا گلے کی نالیوں کو متاثر کرتا ہے۔

ٹھنڈے مشروبات اور کھٹی چیزوں کا استعمال:

موسم بدلتے وقت اچانک برف کا پانی، فریز کی ہوئی چیزیں یا تلی ہوئی اشیاء کا استعمال سوزش کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

گلا خراب ہونے کی دیگر وجوہات

گلے کی تکلیف ہمیشہ صرف موسم کی تبدیلی کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ اس کی عام وجوہات میں:

  • نزلہ یا زکام
  • وائرل انفیکشن
  • خشک ہوا
  • دھول اور آلودگی
  • بہت زیادہ ٹھنڈی یا گرم چیزیں استعمال کرنا
  • الرجی
  • مسلسل بلند آواز میں بولنا
  • جسم میں پانی کی کمی

شامل ہو سکتی ہے۔

احتیاطی تدابیر اور گھریلو علاج

نیم گرم پانی کا استعمال:

موسم کی تبدیلی کے دوران سادہ پانی کے بجائے نیم گرم پانی پینے کی عادت بنائیں۔ یہ گلے کی نمی برقرار رکھتا ہے۔

نمک والے نیم گرم پانی کے غرارے:

دن میں دو سے تین بار نیم گرم پانی میں چٹکی بھر نمک ملا کر غرارے کرنے سے گلے کی سوزش اور بیکٹیریا/وائرس کم ہوتے ہیں۔

بھاپ (Steam) لیں:

رات کو سونے سے پہلے بھاپ لینے سے نزلہ، زکام اور گلے کی خشکی دور ہوتی ہے۔

شہد اور ادرک کا استعمال:

ایک چمچ شہد میں تھوڑا سا ادرک کا رس یا دارچینی ملا کر استعمال کرنے سے گلے کا درد اور سوزش جلدی ٹھیک ہوتی ہے۔

گرد و غبار سے بچاؤ:

باہر نکلتے وقت ماسک یا رومال سے ناک اور منہ ڈھانپیں۔

ٹھنڈی اور تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز:

فریز کی ہوئی چیزوں، کولڈ ڈرنکس اور حد سے زیادہ چکنائی والے کھانا کھانے سے گریز کریں۔

اہم نوٹ: اگر گلے کا درد 3 سے 4 دنوں سے زیادہ برقرار رہے، تیز بخار ہو، یا نگلنے میں شدید تکلیف ہو تو خود ادویات (خصوصاً اینٹی بائیوٹکس) لینے کے بجائے معالج سے مشورہ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *