تاریخ / مقام: اسلام آباد
قومی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیاسی و کور کمیٹی کے اہم اجلاس کی اندرونی کہانی منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ اجلاس کے دوران پارٹی قیادت اور ارکان نے موجودہ سیاسی صورتحال، حکومتی مذاکرات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غوروخوض کیا ہے، جس میں کئی اہم آراء اور تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
مذاکرات کا تسلسل اور لانگ مارچ کے حوالے سے تجاویز
ذرائع کے مطابق اجلاس کے آغاز میں بیرسٹر گوہر نے پارٹی کو حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر رہنما سلمان اکرم راجہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ ملک میں ایمرجنسی لگانے کا مکمل پلان نظر آ رہا ہے۔ تاہم، اجلاس میں شریک ارکان کی اکثریت کا مؤقف تھا کہ مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جانا چاہیے اور اگر حکومت کی جانب سے کوئی مثبت پیش رفت سامنے آتی ہے تو لانگ مارچ کو ختم کرنے کے بجائے اس کی تاریخ میں توسیع یا اسے مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کی بانی چیئرمین سے ملاقات کی صورت میں کوئی سیاسی راہ نکل سکتی ہے، جبکہ بعض ارکان نے رائے دی کہ اس ملاقات میں پی ٹی آئی کے دیگر رہنما بھی ساتھ جائیں۔
علی محمد خان کی جانب سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی شرائط
اجلاس کے دوران رہنما علی محمد خان نے واضح کیا کہ لانگ مارچ صرف ایک صورت میں مؤخر ہو سکتا ہے اگر حکومت درج ذیل مطالبات اور شرائط پر عمل درآمد کی یقین دہانی کروائے:
- حکومت سپریم کورٹ کے 18 اگست کے فیصلے پر من و عن عمل درآمد کروائے۔
- بانی چیئرمین کو ہسپتال منتقل کیا جائے اور ان کی بہنوں کو رہا کر کے ان کی بانی سے ملاقات کروائی جائے۔
- میڈیکل بورڈ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بانی چیئرمین کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ان کے دیرینہ ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو شامل کیا جائے۔
- حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا جائے کہ بانی پی ٹی آئی کے تمام زیرِ التوا مقدمات کو جلد از جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
پٹی آئی کی کور کمیٹی کے اس اجلاس میں پیدا ہونے والی نئی سیاسی صورتحال کے بعد پارٹی آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے مزید مشاورت جاری رکھے گی۔
G24 News Online سیاسی ہلچل، پارلیمانی امور اور تمام اہم ملکی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




