تاریخ / مقام: پشاور
سیاسی و علاقائی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں عوامی سہولیات کی فراہمی کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے بی آر ٹی (BRT) منصوبے کے تحت خواتین کے لیے ‘پنک بس سروس’ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اس فلاحی سروس کا افتتاح کیا، تاہم تقریب کے دوران ان کا سیاسی انداز انتہائی سخت اور جاندار رہا جہاں انہوں نے بند کمروں کے فیصلوں کے خلاف کڑے الفاظ میں خبردار کیا۔
پشاور میں خواتین کے لیے پنک بس سروس کا آغاز اور اہم خصوصیات
افتتاحی تقریب کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ابتدائی طور پر خواتین کے لیے 5 پنک بسیں چلائی جا رہی ہیں جن کا کرایہ عام نرخوں سے 25 فیصد کم رکھا گیا ہے۔ یہ سروس گلبہار اسٹیشن سے کارخانو مارکیٹ تک 21 کلومیٹر کے طویل کوریڈور پر پیر سے جمعہ کے روز تک صبح، دوپہر اور شام کے اوقات میں فعال رہے گی۔ اس سروس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ڈرائیور سمیت دیگر تمام عملہ خواتین پر مشتمل ہوگا، جبکہ سیکیورٹی اور نظم و ضبط کے پیشِ نظر 12 سال سے زائد عمر کے لڑکوں کا اس بس میں داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے خود بھی صدر سے مال روڈ تک بی آر ٹی بس میں عام شہریوں کی طرح سفر کیا۔
بند کمروں کی پالیسیاں مسترد، ضرورت پڑی تو بغاوت کریں گے
سیاسی صورتحال پر کھل کر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ صوبے کے حوالے سے بند کمروں میں بننے والی پالیسیاں ہرگز قبول نہیں کی جائیں گی، اور اگر ضرورت پڑی تو اس کے خلاف بغاوت بھی کی جائے گی۔ انہوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ ٹی وی پر بیٹھ کر ہمارے 80 ہزار شہداء کی توہین کر رہے ہیں، لیکن اب ہر وہ پالیسی تبدیل کی جائے گی جس سے یہ صوبہ لہو لہان ہوا ہو۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ قوم کا ایک ایک روپیہ فضول خرچی کی نذر نہیں ہونے دیں گے اور سرکاری تقریبات پر بے جا اخراجات خود برداشت کرنے کے بجائے ذمہ داروں سے ادا کروائیں گے۔
4 اکتوبر کو تاریخ کا سب سے بڑا مارچ کرنے کا اعلان
وزیراعلیٰ نے پختون ثقافت، غیرت اور روایات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ماؤں، بہنوں اور بزرگوں کی عزت کرنا ہمارے خون میں شامل ہے، اور جو لوگ کے پی کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں وہ دیکھ لیں کہ ہم اپنی خواتین کی کس طرح قدر کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم کبھی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہو۔ اپنی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود 4 اکتوبر کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مارچ کیا جائے گا، کیونکہ یہ عہدے اور کرسیاں ذاتی مفادات کے لیے نہیں بلکہ عوام کی خدمت کے لیے ہیں۔
G24 News Online عوامی فلاحی اقدامات، صوبائی خود مختاری اور ملکی سیاست سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




