تاریخ / مقام: حیدرآباد / اسلام آباد
قومی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
خراب موسم، ہنگامی صورتحال یا دیگر ناگزیر حالات میں کراچی سمیت ملک کے دیگر بڑے ایئرپورٹس پر پروازوں کی لینڈنگ میں پیش آنے والی مشکلات کا مستقل حل تلاش کرنے کے لیے حیدرآباد ایئرپورٹ کو ایک جدید متبادل ایئرپورٹ کے طور پر اپ گریڈ کرنے کا اہم منصوبہ زیرِ غور لایا گیا ہے۔
رن وے کی توسیع اور بڑے طیاروں کی لینڈنگ کی سہولت
ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت حیدرآباد ایئرپورٹ کے رن وے کی موجودہ لمبائی کو تقریباً 7 ہزار فٹ سے بڑھا کر 11 ہزار 500 فٹ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس توسیع کے بعد ایئرپورٹ پر بوئنگ 777 (Boeing 777) جیسے دیوہیکل اور بڑے طیاروں کی محفوظ لینڈنگ بھی ممکن ہو سکے گی۔ اپ گریڈیشن کے اس منصوبے میں مسافروں کے لیے بہتر متعلقہ سہولیات کی فراہمی اور انفرااسٹرکچر کی بہتری کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
علاقائی فضائی مرکز اور ٹرانسپورٹیشن میں سہولت
ذرائع کا بتانا ہے کہ حیدرآباد ایئرپورٹ کو بطور علاقائی فضائی مرکز (Regional Aviation Hub) ترقی دینے سے اندرون ملک فضائی پروازوں کا ممکنہ آغاز بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہنگامی صورتحال میں اگر اس ایئرپورٹ کو متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے تو مسافروں کو سڑک کے راستے کراچی اور سندھ کے دیگر قریبی شہروں تک منتقل کرنا نسبتاً انتہائی آسان ہوگا، جس سے مسافروں کو سفر کے دوران درپیش مشکلات اور تاخیر کو کم کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔
اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور تاریخی پس منظر
حیدرآباد ایئرپورٹ سے ممکنہ علاقائی پروازوں کے باضابطہ آغاز کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے تفصیلی مشاورت کیے جانے کا بھی امکان ہے، جبکہ اپ گریڈیشن کے بعد فضائی آپریشنز کو مرحلہ وار وسعت دی جائے گی۔ یاد رہے کہ حیدرآباد ایئرپورٹ سے آخری کمرشل پرواز سال 2013 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے آپریٹ کی تھی، جس کے بعد سے وہاں باقاعدہ کمرشل فضائی آپریشنز معطل چلے آ رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مجوزہ اپ گریڈیشن سے نہ صرف ہنگامی بنیادوں پر متبادل ایئرپورٹ کی قومی ضرورت پوری ہوگی بلکہ اندرون سندھ فضائی رابطوں کو بھی بہتر فروغ ملے گا۔
G24 News Online ایوی ایشن امور، ملکی انفرااسٹرکچر اور تمام اہم قومی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




