ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

سیاست

گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی، وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کردیا! 🇵🇰📉

گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی، وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کردیا! 🇵🇰📉
Spread the love

تاریخ / مقام: لکی مروت / پشاور

قومی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے گنڈی چوک لکی مروت سے لانگ مارچ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ لانگ مارچ کے شرکاء سے پرجوش خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وفاقی حکومت کو دوٹوک الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور واضح کیا کہ صوبے میں کسی بھی قسم کا غیر آئینی ہتھکنڈا یا فیصلہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

گورنر راج اور ایمرجنسی کی سختی سے تردید

لکی مروت میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم ایک باقاعدہ سیاسی قوت اور سیاسی جماعت ہیں، اور اسلام آباد جانے والی مذاکراتی کمیٹی کا مقصد سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بند کمروں میں فیصلے کرنے والا مائنڈ سیٹ عوام پر ایک اور فیصلہ مسلط کرنے کی تیاری کر رہا تھا، لیکن خیبرپختونخوا میں صرف اور صرف عمران خان کی حکومت اور ان کا وژن ہی چلے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ “ہم جی جناب والے نہیں ہیں، نہ تو گورنر راج مانتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی ایمرجنسی کو تسلیم کرتے ہیں۔”

آپریشن کی مخالفت اور امن کے لیے واضح پالیسی

سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے میں کوئی نیا آپریشن نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ وفاقی حکومت پچھلے 22 سال سے کے پی کو لیبارٹری کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں صوبے میں مکمل امن تھا کیونکہ اس کی پالیسی درست تھی، تاہم رجیم چینج کے بعد دہشت گردی کو دوبارہ مسلط کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے پاس امن کے قیام کے لیے ایک موثر پالیسی موجود ہے جس پر عمل کر کے 100 دنوں میں امن بحال کیا جا سکتا ہے، لیکن حکمرانوں کی نیت امن قائم کرنا نہیں بلکہ تحریک انصاف کو ختم کرنا ہے، جو ان کے بس کی بات نہیں۔

علی امین گنڈاپور کی ہدایات اور لانگ مارچ کا شیڈول

دوسری جانب، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے ترجمان فراز احمد مغل کے مطابق لانگ مارچ میں شرکت کے لیے ہزاروں کارکنان جوق در جوق قافلے کا حصہ بن رہے ہیں۔ لانگ مارچ کے آغاز سے قبل اپنے خطاب میں علی امین گنڈاپور نے کارکنوں کو سخت ہدایت کی کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی ہوگا، اسلام آباد جانے یا نہ جانے کا فیصلہ قیادت کرے گی۔ انہوں نے واضح حکم دیا کہ “جو شخص ڈنڈا لائے گا یا پتھراؤ کرے گا، قانون ہاتھ میں لے گا، وہ ہم میں سے نہیں ہوگا۔” شیڈول کے مطابق ٹانک، ڈی آئی خان، جنوبی و شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے قافلے اس مارچ کا حصہ بنیں گے، جن کا پہلا پڑاؤ کرک کے قریب ہوگا، جبکہ اگلے مراحل میں یہ قافلہ کوہاٹ اور صوابی کی جانب بڑھے گا۔

G24 News Online ملکی سیاسی صورتحال، احتجاجی تحریکوں اور تمام اہم قومی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *