تاریخ / مقام: صنعا / عدن
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
یمن میں جاری خانہ جنگی کے دوران کشیدگی میں ایک بار پھر شدید اضافہ ہو گیا ہے۔ یمنی فوج نے ملک کے مختلف محاذوں پر حوثی باغیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جن کے نتیجے میں دونوں فریقین کے درمیان تصادم مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
یمنی فوج کی کارروائیاں اور بھاری نقصانات کا دعویٰ
یمنی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ماجد عبداللہ النزیلی کے مطابق صعدہ، الجوف، تعز اور ساحلی علاقوں سمیت مختلف محاذوں پر کل 1,122 فوجی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ ان حملوں میں جنگی طیاروں، ڈرونز، میزائلوں، راکٹوں، توپ خانے اور اسنائپرز کا بھرپور استعمال کیا گیا۔ ترجمان کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران حوثیوں کے توپ خانے کے ٹھکانوں، راکٹ لانچرز، دفاعی تنصیبات، رسد کے راستوں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 1,747 حوثی جنگجو ہلاک یا ’’غیر مؤثر‘‘ ہو گئے، جبکہ 364 فوجی گاڑیوں اور سازوسامان کو بھی تباہ یا ناکارہ بنایا گیا۔ تاہم، آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
حکومت کا حوثی زیر قبضہ علاقے واپس لینے کا اعلان
یہ فوجی کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ تمام علاقوں کو واپس لینے کے لیے ایک بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کر رکھا ہے۔ صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اس کارروائی کا بنیادی مقصد ملک کے تمام علاقوں میں آئینی ریاستی اختیار اور اداروں کی مکمل عمل داری بحال کرنا ہے۔
تعز کے محاذ پر لڑائی اور زمینی صورتحال
حالیہ دنوں میں تعز کے اطراف لڑائی میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ حوثی فورسز کی پیش قدمی کے باعث تعز اور عدن کے درمیان اہم زمینی راستوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں، جبکہ یمنی حکومت کی افواج حوثیوں کی پیش قدمی کو روکنے اور کھوئے ہوئے علاقوں کو واگزار کرانے کے لیے برسرپیکار ہیں۔ سعودی عرب یمنی حکومت کی بھرپور حمایت کر رہا ہے جبکہ حوثی تحریک دارالحکومت صنعا سمیت شمال مغربی علاقوں کے بڑے حصوں پر قابض ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ فوجی کارروائی کے حتمی نتائج اور دونوں جانب ہونے والے اصل نقصانات کے بارے میں آزادانہ معلومات محدود ہیں، اس لیے فریقین کے جنگی دعوؤں کا جائزہ انتہائی احتیاط سے لیا جانا چاہیے۔
G24 News Online بین الاقوامی کشیدگی، جنگی تنازعات اور تمام اہم عالمی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




