تاریخ / مقام: اسلام آباد
اقتصادی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں انویسٹمنٹ فریم ورک اور فنانسنگ مکمل طور پر دستیاب ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے صلاحیت کو بہتر بنایا جائے۔ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے مکمل طور پر تیار ہے جس نے خسارے پر قابو پاتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیا ہے اور پانڈا و یورو بانڈز کے اجراء کے ذریعے اپنی مالیاتی ضروریات کو کامیابی سے پورا کیا ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کے روز یو این ڈی پی، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے منعقدہ “پاکستان کے پائیدار مستقبل میں سرمایہ کاری” فیئر اینڈ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مقامی سرمایہ کاری کا فروغ اور بین الاقوامی اعتماد
وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ لندن اور نیویارک کے بین الاقوامی سرمایہ کار بھی یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی معاشی سمت بالکل درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سب سے پہلے مقامی سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ دینی ہوگی کیونکہ مقامی سرمایہ کاروں کے فعال ہونے سے ہی بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو سکے گی۔ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے معاشی استحکام بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جہاں نجی شعبہ معاشی ترقی اور سرمایہ کاری میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو سرمایہ کاری کے فروغ کا مؤثر ترین ذریعہ قرار دیا۔
گرین فنانسنگ اور معاشی نمو کے چار اہم ستون
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ’گرین ٹیکسونومی فریم ورک‘ کا مسودہ فراہم کر دیا گیا ہے۔ موسمیاتی خوشحالی کے منصوبے کے تحت پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) ای ایس جی (ESG) انڈیکس پر بھی کام کر رہا ہے، جس سے لسٹڈ کمپنیوں کی کارکردگی اور شفافیت کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔ فنڈنگ کے حصول کے لیے عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کے ساتھ ساتھ ملکی وسائل کو بھی بھرپور طریقے سے بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار معاشی نمو کے لیے چار امور بنیادی اہمیت کے حامل ہیں جن میں مضبوط پالیسی فریم ورک، فنانسنگ کی صلاحیت، اور بینک ایبل (قابلِ عمل) منصوبے شامل ہیں۔
G24 News Online ملکی معیشت، سرمایہ کاری کے مواقع اور تمام اہم قومی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




