ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

فلائی دبئی ہائی جیکنگ کیس؛ ملزم معاون پائلٹ حمام الحمامی کو ماضی میں عمان اور مراکش میں بھی پرواز سے روکا گیا تھا! 🌐🔒

فلائی دبئی ہائی جیکنگ کیس؛ ملزم معاون پائلٹ حمام الحمامی کو ماضی میں عمان اور مراکش میں بھی پرواز سے روکا گیا تھا! 🌐🔒
Spread the love

تاریخ / مقام: دبئی / نئی دہلی

بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کو مبینہ طور پر ہائی جیک کرنے اور طیارہ گرانے کی کوشش کرنے والے عمانی معاون پائلٹ حمام الحمامی کے بارے میں انتہائی تہلکہ خیز اور تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ معروف بھارتی نشریاتی ادارے ’این ڈی ٹی وی‘ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، مبینہ حملہ آور کو اس کے فضائی کیریئر کے دوران دو مختلف ممالک میں دو مرتبہ جہاز اڑانے کی ذمہ داری سے روکا جا چکا تھا، اس کے باوجود فلائی دبئی میں اس کی تقرری نے ایوی ایشن سکیورٹی پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔

عمان ایئر اور رائل ایر ماروک میں پابندی کا پس منظر

رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں عمان ایئر نے حمام الحمامی کو انتہا پسند آن لائن مواد سے وابستگی اور اس حوالے سے پیدا ہونے والے سنگین سکیورٹی خدشات کے باعث پرواز سے ہٹا دیا تھا۔ عمانی ایئرلائن میں پابندی کے بعد وہ مراکش منتقل ہوا جہاں اس نے رائل ایر ماروک میں ملازمت کے لیے تربیت حاصل کی۔

رائل ایر ماروک نے بھی تصدیق کی ہے کہ حمام الحمامی نے 2025 میں تقریباً تین ماہ کی نظریاتی تربیت مکمل کی تھی، تاہم تربیت کے بعد اس کی ملازمت کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ جنوری 2026 میں اسے طیارے کے کاک پٹ میں داخلے کی بھی اجازت نہیں دی گئی تھی، البتہ ایئرلائن نے اس فیصلے کی وجوہات کی مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی تھیں۔

فلائی دبئی کی سنگین غفلت اور تقرری

رپورٹ میں اس امر کو انتہائی حیرت انگیز اور مجرمانہ غفلت قرار دیا گیا ہے کہ مذکورہ پائلٹ کو مراکش میں کاک پٹ سے روکے جانے کے محض ایک ماہ بعد، یعنی فروری 2026 میں، فلائی دبئی میں معاون پائلٹ کی حیثیت سے ملازمت بھی مل گئی اور اسے باقاعدہ پروازوں پر جانے کی اجازت بھی دے دی گئی۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پائلٹ کے ماضی اور کیریئر کی جانچ پڑتال نہ کرنے کی اس سنگین غفلت کی وجہ سے سیکڑوں مسافروں کی جانیں خطرے میں پڑ گئیں۔

واقعے کا پس منظر اور گرفتاری

یاد رہے کہ 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں معاون پائلٹ حمام الحمامی نے دورانِ پرواز اپنے ساتھی پائلٹ پر تیز دھار آلے سے حملہ کر دیا تھا اور کاک پٹ کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت طیارے میں تقریباً 174 افراد سوار تھے۔ زخمی ہونے کے باوجود طیارے کے کپتان نے ہمت دکھائی اور دروازہ کھولا جس پر مسافروں اور دیگر عملے نے مل کر حملہ آور کو قابو کر لیا۔

طیارے میں موجود ایک اسرائیلی دندان ساز شوٹا موسیف نے زخمی پائلٹ کو ابتدائی طبی امداد دی جبکہ دیگر آف لوڈ پائلٹس نے طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک کے ایئرپورٹ پر بحفاظت ہنگامی لینڈنگ کروائی۔ بعد ازاں حملہ آور کو حراست میں لے کر متحدہ عرب امارات منتقل کیا گیا جہاں امریکی اور اسرائیلی سکیورٹی حکام نے بھی اس سے تفتیش کی۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزم طیارے کو اسرائیل لے جا کر نائن الیون (9/11) حملے کی طرح کسی عمارت سے ٹکرا دینا چاہتا تھا، اور اس کے القاعدہ کے نظریات سے متاثر ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں۔

G24 News Online بین الاقوامی سکیورٹی امور اور تمام اہم عالمی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *