تاریخ / مقام: تل ابیب / دبئی / واشنگٹن
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
عالمی ایوی ایشن کی تاریخ کے ایک انتہائی خوفناک اور سنسنی خیز واقعے کا انکشاف ہوا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے “سی بی ایس نیوز” نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز (1073) کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی گئی، جس پر اسرائیلی فضائیہ نے ہنگامی بنیادوں پر طیارے کو مار گرانے کی تیاری مکمل کر لی تھی۔
کاک پٹ میں ہنگامہ اور 14 ہزار فٹ کی خطرناک گراوٹ
رپورٹ کے مطابق پرواز کے دوران عمان سے تعلق رکھنے والے معاون پائلٹ ھمام الحمامی نے اچانک طیارہ اڑانے والے اصل پائلٹ پر حملہ کر دیا اور کاک پٹ کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔ اس دوران کشمکش کے نتیجے میں طیارہ اچانک تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے آ گیا تھا۔ جب کاک پٹ سے زمین پر موجود حکام کا رابطہ منقطع ہوا تو صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسرائیلی حکام نے فوری طور پر ہنگامی طریقہ کار فعال کیا۔
اسرائیل کی جانب سے کمانڈ سینٹر قائم کرتے ہوئے اپنی فضائی حدود بند کر دی گئیں اور فوری طور پر جنگی طیارے فضا میں روانہ کر دیے گئے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ عمانی معاون پائلٹ کا اصل منصوبہ تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے پر اس طیارے کو کسی عمارت یا تنصیب سے ٹکرا کر تباہ کرنا تھا۔
مسافروں کی شجاعت اور سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ
خوفناک صورتحال کے باوجود طیارے میں سوار مسافروں اور عملے نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر زبردست شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ شدید زخمی پائلٹ کی مدد سے مسافروں اور فلائی دبئی کے عملے نے حملہ آور معاون پائلٹ کو کامیابی سے قابو کر لیا، جس کے بعد طیارے میں موجود دو آف ڈیوٹی پائلٹس نے کنٹرول سنبھالا۔
اس دوران جب پرواز نے اسرائیل کے بجائے سعودی عرب کی جانب رخ کیا تو اسرائیلی جنگی طیاروں کو واپس بلا لیا گیا، جبکہ سعودی عرب نے بھی فوری طور پر اپنے جنگی طیارے فضا میں روانہ کر دیے تھے۔ بالآخر مسافر بردار طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحفاظت ہنگامی طور پر اتار لیا گیا۔
تحقیقات اور اسرائیل کا ردعمل
رپورٹس کے مطابق اس پرواز میں 170 سے زائد مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے جن میں اکثریت اسرائیلی شہریوں کی تھی۔ اسرائیلی سیکیورٹی ادارے “شن بیت” کے اہلکار بھی فوری طور پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے اور تفتیش میں حصہ لیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اسے ایک تنہا حملہ قرار دیا گیا ہے اور فلائٹ کے دیگر عملے کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ یاد رہے کہ اگر طیارہ اسرائیل کی فضائی حدود کے قریب پہنچ جاتا تو اسے مار گرانے کی حتمی اجازت صرف ملک کے وزیراعظم کے پاس تھی۔
G24 News Online بین الاقوامی سکیورٹی امور، دنیا بھر کی اہم خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




