تاریخ / مقام: اسلام آباد
قومی و عدالتی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) کے قانون اور اس کے اطلاق کے حوالے سے اہم اور بڑا قانونی فیصلہ جاری کیا ہے۔ عدالت عالیہ نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ جو شخص پہلے سے بیرون ملک موجود ہو، اس پر ای سی ایل میں نام شامل کرنے کا ابتدائی حکم قانونی طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
کیس کے حقائق اور پاسپورٹ بلاک کرنے کا معمہ
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد آصف نے امریکا میں مقیم پاکستانی شہری ہاشم محمود کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل 2017 سے امریکا میں مقیم ہیں اور ان کے پاس امریکی ویزا، ایمپلائمنٹ اتھورائزیشن اور ٹیکساس کا ڈرائیونگ لائسنس موجود ہے۔ ہاشم محمود نے آن لائن اپنے پاکستانی پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست جمع کرائی تھی لیکن ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے یہ کہہ کر درخواست روک دی کہ ان کا نام ای سی ایل میں فعال ہے۔
وزارت داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ نیب کی سفارش اور وفاقی کابینہ کے فیصلے پر مئی 2023 میں درخواست گزار کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا جبکہ لاہور کے تھانہ ماڈل ٹاؤن کے مقدمے پر ان کا انٹرپول ریڈ نوٹس بھی جاری تھا۔
عدالتی فیصلہ اور قانونی تشریح
درخواست گزار کے وکیل نے قانونی نقطہ اٹھایا کہ ‘ایگزٹ فرام پاکستان آرڈیننس 1981’ کے سیکشن 2 کے تحت حکام کو کسی شخص کو ملک سے باہر جانے سے روکنے کا اختیار ہے، لیکن چونکہ ان کے موکل پہلے ہی ملک سے باہر تھے، اس لیے ان پر ملک سے باہر جانے سے روکنے کا ابتدائی حکم لاگو ہی نہیں ہوتا۔
جسٹس محمد آصف نے وکیل کے قانونی موکل کو تسلیم کرتے ہوئے تحریری فیصلے میں درج ذیل احکامات جاری کیے:
- ای سی ایل سے نام نکالنے کا حکم: عدالت نے ہاشم محمود کا نام ای سی ایل سے نکالنے اور ان کے پاکستانی پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست قانون کے مطابق پروسیس کرنے کا حکم دیا۔
- ریڈ نوٹس اور نیب کارروائیاں برقرار رہیں گی: عدالت نے فیصلے میں صراحت کی کہ ای سی ایل سے نام نکالنے سے انٹرپول کے جاری کردہ ریڈ نوٹس، تحویل (Extradition) کی کارروائیوں یا نیب کے کیسز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور وہ قانونی تقاضوں کے مطابق جاری رہیں گی۔
G24 News Online عدالتی فیصلوں، قانونی امور اور تمام اہم قومی خبریں غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




