تاریخ / مقام: اسلام آباد
بیورو رپورٹ — G24 News Online
تفصیل:
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست پر 14 ستمبر کو سنائے جانے والے فیصلے کا تفصیلی اور تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ کی جانب سے جاری کردہ اس فیصلے میں آئین، قانون کی حکمرانی اور بنیادی حقوق کے تحفظ سے متعلق سخت قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں۔
بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور سرکاری عہدیداروں کی ذمہ داری
تحریری فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی براہِ راست آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی، اور اس عمل میں ملوث ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔ عدالت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اگر کسی سرکاری عہدیدار کے فعل یا غفلت کی وجہ سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے تو اسے اس کے حلف کی صریح خلاف ورزی سمجھا جائے گا، اور آئین و قانون کی پامالی پر ذمہ دار سرکاری افراد کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
عدالتی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی اور ماضی کا ریکارڈ
فیصلے میں پی ٹی آئی کی جانب سے ماضی میں دی گئی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ یہ امر انتہائی قابلِ افسوس ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے دی جانے والی یقین دہانیاں اور عدالتی ہدایات کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ میں دی گئی یقین دہانی کی خود بانی چیئرمین کی جانب سے خلاف ورزی کی گئی، جبکہ نومبر 2024ء کے احتجاج کے دوران بھی ہائی کورٹ کا فیصلہ جاری ہونے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سامنے موجود یہ کیس کسی قسم کی قیاس آرائیوں پر مبنی نہیں ہے، بلکہ متعلقہ سیاسی جماعت کی جانب سے عدالتی احکامات اور یقین دہانیوں کو نظرانداز کرنے کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔
G24 News Online قومی سیاست، عدالتی فیصلوں اور اہم ملکی امور سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




